hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 6048

.

الطحاوي

6048
Al Tahawi
۶۰۴۶: ہَلْ تُقْبَلُ عَلَی الْقَرَوِیِّ حَدَّثَنَا یُوْنُسُ ، قَالَ : ثَنَا ابْنُ وَہْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِیْ نَافِعٌ وَیَزِیْدُ وَیَحْیَی بْنُ أَیُّوْبَ ، عَنِ ابْنِ الْہَادِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَائٍ ، عَنْ عَطَائِ بْنِ یَسَارٍ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ، عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ : لَا تُقْبَلُ شَہَادَۃُ الْبَدْوِیِّ عَلَی الْقَرَوِیِّ .فَذَہَبَ قَوْمٌ اِلٰی أَنَّ شَہَادَۃَ أَہْلِ الْبَادِیَۃِ ، غَیْرُ مَقْبُوْلَۃٍ عَلٰی أَہْلِ الْحَضَرِ ، وَاحْتَجُّوْا فِیْ ذٰلِکَ بِہٰذَا الْحَدِیْثِ .وَخَالَفَہُمْ فِیْ ذٰلِکَ آخَرُوْنَ ، فَقَالُوْا : أَمَّا مَنْ کَانَ مِنْ أَہْلِ الْبَادِیَۃِ ، مِمَّنْ یُجِیْبُ اِذَا دُعِیَ وَفِیْہِ أَسْبَابُ الْعَدَالَۃِ ، مَا فِیْ أَہْلِ الْعَدَالَۃِ مِنْ أَہْلِ الْحَضَرِ ، فَشَہَادَتُہُ مَقْبُوْلَۃٌ ، وَہُوَ کَأَہْلِ الْحَضَرِ .وَمِمَّنْ کَانَ مِنْہُمْ لَا یُجِیْبُ اِذَا دُعِیَ ، فَلَا تُقْبَلُ شَہَادَتُہُ .وَقَدْ رُوِیَ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِیْ سَائِرِ ذٰلِکَ ،
٦٠٤٦: عطاء بن یسار نے حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت کی ہے کہ شہری کے خلاف دیہاتی کی گواہی قبول نہ کی جائے۔ امام طحاوی (رح) فرماتے ہیں : بعض لوگوں کا خیال ہے کہ دیہاتیوں کی گواہی شہریوں کے خلاف ناقابل قبول ہے۔ انھوں نے اس روایت کو بطور دلیل پیش کیا ہے۔ جو دیہاتی ان لوگوں سے ہو جو بلانے پر حاضر ہوجاتے ہیں تو ان میں وہ اسباب عدالت پائے جاتے ہیں جو شہریوں کے اہل عدالت میں پائے جاتے ہیں تو اس کی گواہی مقبول ہے اور وہ شہریوں کی طرح ہے اور جو دیہاتی بلانے پر حاضر نہیں ہوتے ان کی گواہی قابل قبول نہیں۔ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس سلسلہ میں یہ روایات وارد ہیں۔
تخریج : ابو داؤد فی الاقضیہ باب ١٧‘ ابن ماجہ فی الاحکام باب ٣٠‘ بتغیر یسیر من الالفاض۔
شہریوں کے خلاف دیہاتی لوگوں کی گواہی قابل قبول نہ ہوگی اس قول سے ایسے دیہاتی مراد ہیں جو اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حکموں سے سرکشی اختیار کرنے والے ہیں مختلف دینی کاموں کی طرف بلانے کے باوجود نہ آئے باقی جو دیہاتی فرمان بردار اور نیک ہوں ان کا یہ حکم نہیں ہے۔