۶۰۵ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خُزَیْمَۃَ قَالَ : ثَنَا حَجَّاجٌ قَالَ : ثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ حَمَّادٍ، عَنْ سَعِیْدِ بْنِ جُبَیْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ خَاصَّۃً مِثْلَہٗ غَیْرَ أَنَّہٗ قَالَ : تَدَعُ الصَّلَاۃَ، أَیَّامَ حَیْضِہَا .فَجَعَلَ أَہْلُ ھٰذِہِ الْمَقَالَۃِ عَلَی الْمُسْتَحَاضَۃِ، أَنْ تَغْتَسِلَ لِکُلِّ صَلَاۃٍ لَمَا ذَکَرْنَاہُ مِنْ ھٰذِہِ الْآثَارِ .وَخَالَفَہُمْ فِیْ ذٰلِکَ آخَرُوْنَ فَقَالُوْا : الَّذِیْ یَجِبُ عَلَیْہَا أَنْ تَغْتَسِلَ لِلظُّہْرِ وَالْعَصْرِ غُسْلًا وَاحِدًا تُصَلِّیْ بِہِ الظُّہْرَ فِیْ آخِرِ وَقْتِہَا وَالْعَصْرَ فِیْ أَوَّلِ وَقْتِہَا، وَتَغْتَسِلُ لِلْمَغْرِبِ وَالْعِشَائِ غُسْلًا وَاحِدًا، تُصَلِّیْہِمَا بِہٖ، فَتُؤَخِّرُ الْأُوْلٰی مِنْہُمَا، وَتُقَدِّمُ الْآخِرَۃَ، کَمَا فَعَلَتْ فِی الظُّہْرِ وَالْعَصْرِ، وَتَغْتَسِلُ لِلصُّبْحِ غُسْلًا .وَذَہَبُوْا فِیْ ذٰلِکَ إِلٰی۔
٦٠٥: سعید بن جبیر نے ابن عباس (رض) سے خاص طور پر اسی طرح کی روایت نقل کی ہے البتہ اتنی بات ہے کہ یہ الفاظ زائد ہیں تدع الصلوٰۃ ایام حیضھا کہ ایام حیض میں نماز ترک کر دے۔ جن علماء نے اس قول کو اختیار کیا انھوں نے اس کو غسل کا پابند بنایا جو کہ ہر نماز کے لیے اسے کرنا ہوگا۔ علماء کی دوسری جماعت نے ان سے اختلاف کرتے ہوئے فرمایا کہ اس پر لازم یہ ہے کہ ظہر و عصر کے لیے ایک غسل کرے اور اس سے ظہر آخری وقت میں اور عصر اول وقت میں ادا کرے اور مغرب و عشاء کے لیے ایک غسل کرے مغرب کو مؤخر کرے اور عشاء کو اول وقت میں ادا کرے جیسا کہ اس نے ظہر و عصر کے سلسلہ میں کیا اور فجر کے لیے مستقل غسل کرے اور انھوں نے اپنے استدلال میں ان روایات کو پیش کیا۔
حاصل روایات :
ان دس روایات سے یہ بات ثابت ہو رہی ہے کہ مستحاضہ کے لیے نماز کی ادائیگی کی صورت یہ ہے کہ ہر نماز کے لیے غسل کرے گی۔
فریق ثانی کا مؤقف :
فریق ثانی کا مؤقف یہ ہے کہ ایام حیض کے علاوہ ہر روز تین بار غسل کرے ایک فجر کے لیے اور ظہر کو مؤخر اور عصر کو مقدم کر کے اول وقت میں دونوں کے لیے ایک غسل اور مغرب کو مؤخر اور عشاء کو اول وقت میں کر کے ایک غسل کرے۔