۶۰۴ : حَدَّثَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ شُعَیْبٍ قَالَ : ثَنَا الْخَصِیْبُ قَالَ : ثَنَا یَزِیْدُ بْنُ اِبْرَاہِیْمَ، عَنْ أَبِی الزُّبَیْرِ، عَنْ سَعِیْدِ بْنِ جُبَیْرٍ : أَنَّ امْرَأَۃً مِنْ أَہْلِ الْکُوْفَۃِ اُسْتُحِیْضَتْ، فَکَتَبَتْ إِلٰی عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عُمَرَ، وَعَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَبَّاسٍ، وَعَبْدِ اللّٰہِ بْنِ الزُّبَیْرِ، تُنَاشِدُہُمْ اللّٰہَ وَتَقُوْلُ : إِنِّیْ امْرَأَۃٌ مُسْلِمَۃٌ أَصَابَنِیْ بَلَائٌ ، إِنَّمَا اُسْتُحِضْت مُنْذُ سَنَتَیْنِ، فَمَا تَرَوْنَ فِیْ ذٰلِکَ؟ فَکَانَ أَوَّلُ مَنْ وَقَعَ الْکِتَابُ فِیْ یَدِہِ، ابْنُ الزُّبَیْرِ فَقَالَ: مَا أَعْلَمُ لَہَا إِلَّا أَنْ تَدَعَ قُرُوْئَ ہَا، وَتَغْتَسِلُ عِنْدَ کُلِّ صَلَاۃٍ وَتُصَلِّیْ، فَتَتَابَعُوْا عَلَی ذٰلِکَ .
٦٠٤: ابو الزبیر نے سعید بن جبیر سے نقل کیا کہ ایک عورت اہل کوفہ میں سے استحاضہ میں مبتلا ہوئی اس نے عبداللہ بن عمر (رض) اور عبداللہ بن عباس (رض) اور عبداللہ بن زبیر (رض) کو خط لکھا ان کو اللہ تعالیٰ کی قسم دے کر وہ کہہ رہی تھی میں ایک مسلمان عورت ہوں مجھ پر دو سال سے یہ بیماری وارد ہوئی ہے کہ میں استحاضہ کا شکار ہوں اس سلسلہ میں آپ مجھے کیا فتویٰ دیتے ہیں سب سے پہلے یہ خط ابن زبیر (رض) کے ہاتھ لگا انھوں نے کہا جہاں تک میں جانتا ہوں وہ یہ ہے کہ وہ اپنے حیض کے دنوں کو چھوڑ کر بقیہ ایام میں ہر نماز کے لیے غسل کر کے نماز پڑھے سب نے اسی فتویٰ کی تصدیق و پیروی کی۔
اللغات : الترترہ۔ تیز کلامی ‘ قرأۃ میں ڈھیلا پن۔ ہذرمنہ۔ تیز پڑھنا۔ تناشدھم۔ قسم دینا۔ تتابع۔ پیروی کرنا۔
تخریج : عبدالرزاق ١؍٣٠٨۔