۶۰۵۳: حَدَّثَنَا یُوْنُسُ قَالَ : ثَنَا أَیُّوْبُ بْنُ سُوَیْدٍ ، عَنِ الْأَوْزَاعِیِّ ، عَنْ یَحْیَی بْنِ أَبِیْ کَثِیْرٍ ، عَنْ أَبِیْ سَلَمَۃَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ عَنِ الْبَرَائِ بْنِ عَازِبٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ، عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مِثْلَہٗ۔، غَیْرَ أَنَّہٗ قَالَ وَالْعَجْفَائُ الَّتِیْ لَا تُنْقِی وَلَمْ یَقُلْ وَالْکَسِیْرَۃُ .قَالَ أَبُوْ جَعْفَرٍ : فَذَہَبَ قَوْمٌ اِلَی ہٰذَا الْحَدِیْثِ ، فَقَالُوْا : لَا تُجْزِئُ شَاۃٌ ، وَلَا بَدَنَۃٌ ، وَلَا بَقَرَۃٌ ، اِذَا کَانَ بِہَا وَاحِدٌ مِنْ ہٰذِہِ الْعُیُوْبِ الْأَرْبَعِ فِیْ ہَدْیٍ وَلَا أُضْحِیَّۃٍ .قَالُوْا : وَمَا کَانَ سِوَیْ ہٰذِہِ الْأَرْبَعِ ، مِثْلُ قَطْعِ الْأَلْیَۃِ وَالْأُذُنِ وَغَیْرِ ذٰلِکَ ، فَاِنَّ ذٰلِکَ لَا یَمْنَعُ الشَّاۃَ ، وَلَا الْبَقَرَۃَ وَلَا الْبَدَنَۃَ أَنْ تُہْدَی وَلَا أَنْ یُضَحَّی بِہَا .وَاحْتَجُّوْا فِیْ ذٰلِکَ أَیْضًا ،
٦٠٥٣: ابو سلمہ بن عبدالرحمن نے حضرت براء بن عازب (رض) سے روایت کی ہے اور انھوں نے جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اسی طرح کی روایت نقل کی ہے۔ البتہ انھوں نے ” العجفاء التی لاتنقی “ تو کہا مگر الکبیرۃ کا لفظ ساتھ نہیں کہا۔ امام طحاوی (رح) فرماتے ہیں : بعض لوگوں نے اس روایت کو سامنے رکھتے ہوئے یہ کہا کہ بکری ‘ اونٹ اور گائے جس میں ان چاروں عیوب میں سے کوئی عیب ہو وہ بطور ہدی اور قربانی کے جائز نہیں ان کے علاوہ جس کی چکی یا کان کٹا ہوا ہو اس کو ہدی کے طور پر دینا منع نہیں انھوں نے مزید دلیل دیتے ہوئے یہ روایت بھی پیش کی جس کو ابو سعید خدری (رض) نے نقل کیا ہے۔