۶۰۵۴: بِمَا حَدَّثَنَا اِبْرَاھِیْمُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّیْرَفِیُّ ، قَالَ : ثَنَا أَبُو الْوَلِیْدِ ، قَالَ : ثَنَا أَبُوْ عَوَانَۃَ ، وَشَرِیْکٌ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ قَرَظَۃَ ، عَنْ أَبِیْ سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ، قَالَ : اشْتَرَیْتُ کَبْشًا لِأُضَحِّیَ بِہٖ ، فَعَدَا الذِّئْبُ عَلَیْہٖ، فَقَطَعَ أَلْیَتَہٗ، فَسَأَلَ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَقَالَ ضَحِّ بِہٖ .وَخَالَفَہُمْ فِیْ ذٰلِکَ آخَرُوْنَ ، فَقَالُوْا : لَا یَجُوْزُ أَنْ یُضَحِّیَ بِالشَّاۃِ ، وَلَا بِالْبَقَرَۃِ ، وَلَا بِالْبَدَنَۃِ ، وَبِہَا عَیْبٌ مِنْ ہٰذِہِ الْعُیُوْبِ الْأَرْبَعِ ، وَلَا یَجُوْزُ مَعَ ذٰلِکَ أَیْضًا أَنْ یُضَحِّیَ بِمَقْطُوْعَۃِ الْأُذُنِ ، وَلَا أَنْ یُہْدِیَ .وَاحْتَجُّوْا فِیْ ذٰلِکَ أَیْضًا ، بِمَا رُوِیَ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فِیْ غَیْرِ ہٰذَا الْحَدِیْثِ .
٦٠٥٤: محمد بن قرظہ نے حضرت ابو سعید خدری (رض) سے نقل کیا کہ میں نے قربانی کے لیے ایک دنبہ خریدا۔ بھیڑیا اس پر حملہ آور ہوا اور اس نے چکی کو کاٹ لیا جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس کے متعلق دریافت کیا گیا تو آپ نے فرمایا تم اس کی قربانی کر دو ۔ دوسرے حضرات کا قول یہ ہے کہ گائے اونٹ اور بکری کی قربانی جائز نہیں جبکہ اس میں ان چاروں عیبوں میں سے کوئی عیب پایا جاتا ہو یا اس کا کان کٹا ہوا ہو اور نہ ہی ایسے جانور کو بطو ہدی بھیجا جاسکتا ہے دلیل یہ روایات ہیں۔
تخریج : مسند احمد جلد ٣ صفحہ ٣٢۔