۶۰۶۰: حَدَّثَنَا فَہْدٌ قَالَ : ثَنَا أَبُو نُعَیْمٍ ، قَالَ : ثَنَا حَسَنُ بْنُ صَالِحٍ ، وَحَدَّثَنَا فَہْدٌ قَالَ : ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَعِیْدٍ قَالَ : أَخْبَرَنَا شَرِیْکٌ قَالَا جَمِیْعًا ، عَنْ سَلَمَۃَ بْنِ کُہَیْلٍ ، عَنْ حُجَیَّۃَ بْنِ عَدِی قَالَ : أَتَیْ رَجُلٌ عَلِیًّا فَسَأَلَہٗ عَنِ الْمَکْسُوْرَۃِ الْقَرْنِ فَقَالَ لَا یَضُرُّک قَالَ : عَرْجَائُ ؟ قَالَ اِذَا بَلَغَتِ الْمَنْسِکَ أَمَرَنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَنْ نَسْتَشْرِفَ الْعَیْنَ وَالْأُذُنَ .قَالَ أَبُوْ جَعْفَرٍ : فَفِیْ ہٰذِہِ الْآثَارِ النَّہْیُ عَنِ الْأُضْحِیَّۃِ بِمُقَابَلَۃٍ ، أَوْ مُدَابَرَۃٍ ، وَذٰلِکَ فِی الْأُذُنِ ، مَا کَانَ مِنْ ذٰلِکَ مِنْ قُبَالَۃِ الْأُذُنِ ، فَہُوَ مُقَابَلَۃٌ ، وَمَا کَانَ مِنْ أَسْفَلِہَا ، فَہُوَ مُدَابَرَۃٌ .وَبَیَّنَ سَعِیْدُ بْنُ الْمُسَیِّبِ عَضْبَائَ الْأُذُنِ الْمَنْہِیَّ عَنْ ذَبْحِہَا فِی الْأُضْحِیَّۃِ فَقَالَ ہِیَ الْمَقْطُوْعَۃُ نِصْفُ أُذُنِہَا .فَثَبَتَ بِذٰلِکَ مَا نَہٰی عَنْہُ مِنْ ذٰلِکَ فِی الْأُذُنِ ، وَلَمْ یَجُزْ لَنَا تَرْکُہٗ، لِأَنَّ حَدِیْثَ الْبَرَائِ الَّذِیْ ذٰکَرْنَا ، لَا یَخْلُو مِنْ أَحَدِ وَجْہَیْنِ : اِمَّا أَنْ یَکُوْنَ مُتَقَدِّمًا ، عَلٰی حَدِیْثِ عَلِی ہٰذَا، فَیَکُوْنُ حَدِیْثُ عَلِی ہٰذَا، زَائِدًا عَلَیْہِ أَوْ یَکُوْنُ مُتَأَخِّرًا عَنْہُ، فَیَکُوْنُ نَاسِخًا لَہٗ۔فَلَمَّا لَمْ یُعْلَمْ نَسْخُ حَدِیْثِ عَلِیْ بَعْدَمَا قَدْ عَلِمْنَا ثُبُوْتَہٗ، جَعَلْنَاہُ ثَابِتًا مَعَ حَدِیْثِ الْبَرَائِ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ، وَأَوْجَبْنَا الْعَمَلَ بِہِمَا جَمِیْعًا .فَاِنْ قَالَ قَائِلٌ : فَأَنْتَ لَا تَکْرَہُ عَضْبَائَ الْقَرْنِ ، وَفِیْ حَدِیْثِ جُرَیِّ بْنِ کُلَیْبٍ ، عَنْ عَلِیْ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ، عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ النَّہْیُ عَنْہَا .قِیْلَ لَہٗ : اِنَّمَا تَرَکْنَا ذٰلِکَ ، لِأَنَّ عَلِیًّا رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ، لَمْ یَرَ بِذٰلِکَ بَأْسًا ، فِیْمَا قَدْ رَوَیْنَا عَنْہُ، فِیْ حَدِیْثِ حُجَیَّۃَ بْنِ عَدِی ، فَعَلِمْنَا بِذٰلِکَ أَنَّ عَلِیًّا رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ، لَمْ یَقُلْ بَعْدَ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، خِلَافَ مَا قَدْ سَمِعَہُ مِنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، اِلَّا بَعْدَ ثُبُوْتِ نَسْخِ ذٰلِکَ عِنْدَہٗ .وَأَمَّا حَدِیْثُ أَبِیْ سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ ، رَوَیْنَاہٗ عَنْہُ مِنْ حَدِیْثِ اِبْرَاھِیْمَ بْنِ مُحَمَّدٍ الصَّیْرَفِیِّ ، فَحَدِیْثٌ فَاسِدٌ فِیْ اِسْنَادِہِ وَمَتْنِہٖ، قَدْ بَیَّنَ ذٰلِکَ شُعْبَۃُ .
٦٠٦٠: سلمہ بن کہیل نے حجیہ بن عدی (رض) سے روایت کی ہے کہ ایک آدمی حضرت علی (رض) کے پاس آیا اور ان سے پوچھا اس جانور کی قربانی کا کیا حکم ہے جس کا کچھ سینگ ٹوٹا ہوا ہو آپ نے فرمایا اس سے تمہیں کچھ نقصان نہیں اس نے کہا لنگڑے کا کیا حکم ہے آپ نے فرمایا جب وہ قربانی کے مقام تک پہنچ سکتا ہو تو ٹھیک ہے البتہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہمیں اس کی آنکھ اور کان کو اچھی طرح جانچ لینے کا حکم دیا۔ امام طحاوی (رح) فرماتے ہیں : ان آثار سے معلوم ہوتا ہے کہ جس جانور کے کان کا اگلا یا پچھلا حصہ پھٹا یا کٹا ہو اس کی قربانی جائز نہیں مقابلہ کان کے اگلے حصے کے کٹنے کو کہتے ہیں اور اگر نچلی جانب سے کٹا ہو تو اس کے لیے مدابرہ کا لفظ بولتے ہیں اور سعید ابن مسیب نے عضباء الاذن کا معنی جس کا آدھا کان کٹا ہوا ہو بتلایا ہے پس اس سے یہ بات ثابت ہوگئی کہ جن جانوروں کے کان کی یہ کیفیت ہو ان کی قربانی بھی منع ہے اور اس حدیث کا چھوڑنا ہمیں جائز نہیں کیونکہ حضرت برائ (رض) کی روایت دو معنی رکھتی ہے۔ نمبر ١ یا تو اس روایت سے مقدم ہوگی تو اس صورت میں اس روایت میں اضافہ ہے (جس کو قبول کیا جائے گا) یا یہ متاخر ہوگئی تو اس صورت میں اس کے لیے ناسخ بن جائے گی پس جبکہ روایت علی (رض) منسوخ نہیں بلکہ حضرت برائ (رض) کی روایت کے ساتھ ثابت ہے تو ہمیں دونوں پر عمل کرنا ہوگا۔ تمہارے نزدیک ٹوٹے ہوئے سینگ والا جانور ناجائز نہیں حالانکہ جریح بن کلیب والی روایت میں اس کی ممانعت ہے۔ ان کو جواب میں کہے کہ ہم نے اس عیب کو نہ ہونے کے برابر اس لیے قرار دیا کیونکہ علی (رض) اس میں حرج نہیں سمجھتے تھے باقی حجیہ بن عدی والی روایت کا جواب یہ ہے کہ علی (رض) نے جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات کے بعد اگر اس کے خلاف کہا ہے تو وہ اس بات کا ثبوت ہے کہ اس کا منسوخ ہونا انھوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا تھا۔ باقی رہا ابو سعید خدری والی روایت تو اس کا جواب یہ ہے کہ امام شعبہ نے اس کو سند اور متن کے لحاظ سے فاسد قرار دیا ہے۔
تخریج : ابو داؤد فی الاضاحی باب ٦‘ ترمذی فی الاضاحی باب ٦‘ نسائی فی الضحایا باب ٩‘ ١١‘ مسند احمد ١؍٣٠‘ ٩٥۔