۶۰۶۱: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْغَنِیِّ بْنُ رِفَاعَۃَ أَبُوْ عَقِیْلٍ ، قَالَ : ثَنَا عَبْدُ الرَّحْمٰنِ بْنُ زِیَادٍ ، قَالَ : ثَنَا شُعْبَۃُ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ قَرَظَۃَ ، عَنْ أَبِیْ سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ، قَالَ : وَلَمْ نَسْمَعْہُ مِنْہُ أَنَّہٗ اشْتَرٰی کَبْشًا لِیُضَحِّیَ بِہٖ ، فَأُکِلَ ذَنَبُہٗ، أَوْ بَعْضُ ذَنَبِہٖ ، فَسَأَلَ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَنْ ذٰلِکَ فَقَالَ ضَحِّ بِہٖ .فَقَدْ فَسَدَ اِسْنَادُ ہٰذَا الْحَدِیْثِ ، بِمَا قَدْ ذَکَرْنَا ، وَفَسَدَ مَتْنُہٗ، لِأَنَّہٗ قَالَ قُطِعَ ذَنَبُہُ أَوْ بَعْضُ ذَنَبِہٖ .فَاِنْ کَانَ الْبَعْضُ ہُوَ الْمَقْطُوْعَ ، فَیَجُوْزُ أَنْ یَکُوْنَ ذٰلِکَ أَقَلَّ مِنْ رُبْعِہٖ، وَذٰلِکَ لَا یَمْنَعُ أَنْ یُضَحَّی بِہٖ فِی قَوْلِ أَحَدٍ مِنَ النَّاسِ .وَلَوْ کَانَ الْحَدِیْثُ ، کَمَا رَوَاہُ اِبْرَاھِیْمُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، أَنَّہٗ قَطَعَ أَلْیَتَہٗ، لَاحْتَمَلَ أَنْ یَکُوْنَ ذٰلِکَ أَیْضًا عَلَی بَعْضِہَا ، لِأَنَّہٗ قَدْ یُقَالُ : قَطَعَ أَلْیَتَہٗ، اِذَا قَطَعَ بَعْضَہَا ، کَمَا یُقَالُ : قَطَعَ اِصْبَعَہٗ، اِذَا قَطَعَ بَعْضَہَا .فَتَصْحِیْحُ ہٰذِہِ الْآثَارِ ، یَمْنَعُ أَنْ یُضَحِّیَ بِالْأَرْبَعِ ، الَّتِیْ فِیْ حَدِیْثِ الْبَرَائِ ، أَوْ بِالْمُقَابَلَۃِ وَالْمُدَابَرَۃِ ، وَہِیَ الْمَشْقُوْقَۃُ أَکْثَرُ أُذُنِہَا مِنْ قُبُلِہَا أَوْ مِنْ دُبُرِہَا .وَاِذَا کَانَ ذٰلِکَ لَا یُجْزِئُ فِی الْأَضَاحِیّ ، فَالْمَقْطُوْعَۃُ الْأُذُنِ أَحْرَی أَنْ لَا تُجْزِئَ .وَکَذٰلِکَ فِی النَّظَرِ عِنْدَنَا ، کُلُّ عُضْوٍ قُطِعَ مِنْ شَاۃٍ ، مِثْلُ ضَرْعِہَا ، أَوْ أَلْیَتِہَا ، فَذٰلِکَ یَمْنَعُ أَنْ یُضَحَّی بِہَا اِذَا قُطِعَ بِکَمَالِہٖ ، فَأَمَّا اِذَا قُطِعَ بَعْضُہٗ ، فَاِنَّ أَصْحَابَنَا یَخْتَلِفُوْنَ فِیْ ذٰلِکَ .فَأَمَّا أَبُوْ حَنِیْفَۃَ ، رَحْمَۃُ اللّٰہِ عَلَیْہِ فَرُوِیَ عَنْہُ : الْمَقْطُوْعُ مِنْ ذٰلِکَ ، اِذَا کَانَ رُبْعَ ذٰلِکَ الْعُضْوِ فَصَاعِدًا ، لَمْ یَصِحَّ بِمَا قُطِعَ ذٰلِکَ مِنْہٗ، وَاِنْ کَانَ أَقَلَّ مِنِ الرُّبْعِ ، ضَحَّی بِہٖ .وَقَالَ أَبُو یُوْسُفَ وَمُحَمَّدٌ رَحِمَہُمَا اللّٰہُ : اِذَا کَانَ الْمَقْطُوْعُ مِنْ ذٰلِکَ ، ہُوَ النِّصْفَ فَصَاعِدًا ، فَلَا یُضَحَّی بِمَا اِذَا قُطِعَ ذٰلِکَ مِنْہُ .وَاِنْ کَانَ أَقَلَّ مِنْ النِّصْفِ ، فَلَا بَأْسَ أَنْ یُضَحَّی بِہَا .اِلَّا أَنَّ أَبَا یُوْسُفَ رَحِمَہُ اللّٰہُ ذَکَرَ أَنَّہٗ ذَکَرَ ہٰذَا الْقَوْلَ لِأَبِیْ حَنِیْفَۃَ فَقَالَ لَہٗ : قَوْلِیْ مِثْلُ قَوْلِک .فَثَبَتَ بِذٰلِکَ رُجُوْعُ أَبِیْ حَنِیْفَۃَ : رَحْمَۃُ اللّٰہِ عَلَیْہِ، عَنْ قَوْلِہِ الَّذِی قَدْ کَانَ قَالَہٗ، اِلٰی مَا حَدَّثَہٗ بِہٖ أَبُوْ یُوْسُفَ .وَقَدْ وَافَقَ ذٰلِکَ مِنْ قَوْلِہِمْ ، مَا رَوَیْنَا عَنْ سَعِیْدِ بْنِ الْمُسَیِّبِ فِیْ ہٰذَا الْبَابِ ، فِیْ تَفْسِیْرِ الْعَضْبَائِ الَّتِی قَدْ نُہِیَ عَنِ الْأُضْحِیَّۃِ بِہَا ، وَأَنَّہَا الْمَقْطُوْعَۃُ نِصْفُ أُذُنِہَا ، وَکُلُّ مَا کَانَ مِنْ ہٰذَا ، لَا یَکُوْنُ أُضْحِیَّۃً ، لِمَا قَدْ نَقَصَ مِنْہٗ، فَاِنَّہٗ لَا یَکُوْنُ ہَدْیًا .
٦٠٦١: شعبہ نے اپنی سند کے ساتھ حضرت ابو سعید خدری (رض) سے روایت کی وہ فرماتے ہیں میں نے یہ نہیں سنا کہ ابو سعید نے قربانی کے لیے کوئی دنبہ خریدا ہو اور پھر بھیڑیا اس کی دُم کا بعض یا کچھ حصہ کھا گیا ہو اور انھوں نے پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس کے متعلق پوچھا ہو اور آپ نے فرمایا کہ اس کی قربانی کرلو۔ پس اس حدیث کے متن کا بگاڑ واضح ہوگیا کہ کہیں تو کہا گیا کہ اس کی دم کھالی اور کہیں یہ کہا کہ اس کی دم کا کچھ حصہ کھالیا اگر کچھ حصہ کھایا ہو اور وہ چوتھائی عضو سے کم ہو تو کسی کے نزدیک بھی اس کی قربانی ممنوع نہیں اور اگر روایت اسی طرح ہو جیسے ابراہیم بن محمد نے نقل کی ہے کہ ” انہ قطع الیتہ “ تو اس سے بھی بعض دم کا کٹنا مراد ہوسکتا ہے جیسا کہ محاورہ میں کہتے ہیں قطع صبعہ جبکہ وہ انگلی کا کچھ حصہ کاٹے۔ پس ان آثار کی تصحیح کی بہتر شکل یہ ہے کہ حضرت برائ (رض) کی روایت میں جن چار عیوب والے جانوروں کا تذکرہ ہے ان کی بالکل قربانی نہ کی جائے اور مدابرہ اور مقابلہ کی قربانی بھی نہ کرے۔ جب کان کے اکثر حصہ کا کٹنے والا اور پچھلی جانب سے کان پھٹنے والا قربانی میں ممنوع ہوا تو جس جانور کا بالکل کان کٹا ہو وہ بدرجہ اولیٰ جائز نہ ہوگا۔ نظر کا تقاضا ہمارے ہاں یہ ہے کہ بکری کا جو عضو مثلاً تھن یا چکی (سرین) مکمل کاٹ ڈالی جائے تو اس کی قربانی ممنوع ہے اور جب کچھ حصہ کاٹا گیا تو اس میں ہمارے علماء کا اختلاف ہے۔ امام ابوحنیفہ (رح) کے نزدیک اگر عضو کا چوتھائی یا اس سے زائد کٹا ہو تو قربانی جائز نہ ہوگی اور اگر اس سے کم ہو تو قربانی کی جاسکتی ہے۔ امام ابو یوسف ‘ محمد رحمہم اللہ کے نزدیک نصف عضو یا اس سے زائد کٹا ہو تو قربانی سے منع کیا جائے گا اگر کم ہو تو اس میں حرج نہیں۔ امام ابو یوسف (رح) کہتے ہیں کہ میں نے اپنا یہ قول امام ابوحنیفہ (رح) کے سامنے ذکر کیا تو انھوں نے فرمایا۔ میرا قول بھی تمہارے ساتھ ہے اس سے ثابت ہوا کہ امام ابوحنیفہ (رح) نے اپنے قول سے امام ابو یوسف (رح) کے قول کی طرف رجوع فرا لیا اور یہ قول سعید بن مسیب کے قول کے موافق ہے جو کہ عضباء کی تفسیر کے ضمن میں ہم نے اسی باب میں ذکر کیا ہے عضباء اسی جانور کو کہا جاتا ہے جس کا نصف کان کٹا ہوا ہو اور جو جانور قربانی پر نہ لگ سکتا ہو وہ ہدی کے طور پر استعمال نہیں کیا جاسکتا۔