hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 6076

.

الطحاوي

6076
Al Tahawi
۶۰۷۴: حَدَّثَنَا فَہْدٌ قَالَ : ثَنَا یُوْسُفُ بْنُ بُہْلُوْلٍ ، قَالَ : ثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ اِدْرِیْسَ قَالَ : ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ اِسْحَاقَ ، عَنِ ابْنِ شِہَابٍ ، عَنْ عُرْوَۃَ بْنِ الزُّبَیْرِ ، عَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَۃَ ، وَمَرْوَانَ بْنِ الْحَکَمِ ، قَالَا : خَرَجَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَامَ الْحُدَیْبِیَۃِ یُرِیْدُ زِیَارَۃَ الْبَیْتِ ، وَسَاقَ مَعَہُ الْہَدْیَ ، وَکَانَ الْہَدْیُ سَبْعِیْنَ بَدَنَۃً ، وَکَانَ النَّاسُ سَبْعَمِائَۃِ رَجُلٍ ، وَکَانَتْ کُلُّ بَدَنَۃٍ عَنْ عَشَرَۃٍ .قَالَ أَبُوْ جَعْفَرٍ : فَذَہَبَ قَوْمٌ اِلٰی أَنَّ الْبَدَنَۃَ تُجْزِئُ فِی الْہَدَایَا وَالضَّحَایَا عَنْ عَشَرَۃٍ ، وَاحْتَجُّوْا فِیْ ذٰلِکَ بِہٰذَا الْحَدِیْثِ .وَخَالَفَہُمْ فِیْ ذٰلِکَ آخَرُوْنَ فَقَالُوْا : لَا تُجْزِئُ الْبَدَنَۃُ اِلَّا عَنْ سَبْعَۃٍ ، وَقَالُوْا : قَدْ رُوِیَ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِیْ نَحْرِ الْبُدُنِ یَوْمَ الْحُدَیْبِیَۃِ ، مَا یُخَالِفُ ہٰذَا .وَذَکَرُوْا فِیْ ذٰلِکَ
٦٠٧٤: عروہ بن زبیر نے مسور بن مخرمہ اور مروان بن حکم سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حدیبیہ کے سال بیت اللہ شریف کی زیارت کے لیے روانہ ہوئے اور اپنے ساتھ ہدی کے جانور بھی لے لیے ہدی کے جانوروں کی تعداد ستر تھی اور لوگوں کی تعداد سات سو تھی اور ہر اونٹ دس کی طرف سے تھا۔ کچھ لوگوں کا خیال یہ ہے کہ قربانی اور ہدی کا اونٹ دس آدمیوں کی طرف سے ہوسکتا ہے دلیل میں انھوں نے یہ روایت پیش کی۔ دوسروں نے کہا اونٹ سات آدمیوں کی طرف سے ہوسکتا ہے اور اس سلسلے میں جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے حدیبیہ کے دن اونٹوں کے ذبح کے سلسلے میں اور روایات بھی وارد ہیں جن میں سے چند یہ ہیں۔
بعض لوگوں کا خیال یہ ہے کہ قربانی و ہدی کے اونٹ میں دس آدمی شریک ہوسکتے ہیں اس قول کو ابن مسیب (رح) نے اختیار کیا ہے۔
فریق ثانی : کا قول یہ ہے کہ قربانی و ہدی کے جانور میں زیادہ سے زیادہ سات آدمی شریک ہوسکتے ہیں۔ ائمہ احناف نے اسی قول کو اختیار کیا ہے اور اس قول کو تمام فقہاء اور جلیل القدر تابعین عطائ ‘ طاوس ‘ سالم ‘ حسن ثوری رحمہم اللہ نے اختیار کیا۔
(المغنی ج ٨‘ ص ٦٧٠)