۶۰۷۳: مَا قَدْ حَدَّثَنَا ابْنُ مَرْزُوْقٍ قَالَ : ثَنَا أَشْہَلُ بْنُ حَاتِمٍ ، قَالَ : ثَنَا شُعْبَۃُ ، عَنْ سَعِیْدِ بْنِ مَسْرُوْقٍ ، عَنِ الشَّعْبِیِّ ، عَنْ أَبِیْ سَرِیحَۃَ أَنَّ أَبَا بَکْرٍ وَعُمَرَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا ، کَانَا لَا یُضَحِّیَانِ .قَالَ أَبُوْ جَعْفَرٍ : أَفَتَرَی مَا ضَحَّی فِی تِلْکَ السِّنِیْنَ أَحَدٌ ، اِذْ کَانَ اِمَامُہُمْ لَمْ یُضَحِّ ، أَوَ لَا تَرَی أَنَّ اِمَامًا لَوْ تَشَاغَلَ یَوْمَ النَّحْرِ بِقِتَالِ عَدُو أَوْ غَیْرِہٖ، فَشَغَلَہٗ ذٰلِکَ عَنِ النَّحْرِ ، أَمَا لِغَیْرِہِ مِمَّنْ أَرَادَ أَنْ یُضَحِّیَ ، فَلَہٗ أَنْ یُضَحِّیَ ؟ فَاِنْ قَالَ : اِنَّہٗ لَیْسَ لِأَحَدٍ أَنْ یُضَحِّیَ فِیْ عَامِہِ ذٰلِکَ ، خَرَجَ بِہٰذَا مِنْ قَوْلِ الْأَئِمَّۃِ .وَاِنْ قَالَ : لِلنَّاسِ أَنْ یُضَحُّوْا اِذَا زَالَتِ الشَّمْسُ لِذَہَابِ وَقْتِ الصَّلَاۃِ ، فَقَدْ دَلَّ ذٰلِکَ عَلٰی أَنَّ مَا یَحِلُّ بِہٖ النَّحْرُ ، مَا کَانَ فِیْ وَقْتِ صَلَاۃِ الْعِیْدِ ، فَاِنَّمَا ہُوَ الصَّلَاۃُ ، لَا نَحْرُ الْاِمَامِ ، فَاِذَا صَلَّی الْاِمَامُ ، حَلَّ النَّحْرُ لِمَنْ أَرَادَ أَنْ یَنْحَرَ .أَوَ لَا تَرَی أَنَّ الْاِمَامَ لَوْ نَحَرَ قَبْلَ أَنْ یُصَلِّیَ لَمْ یُجْزِہِ ذٰلِکَ ، وَکَذٰلِکَ سَائِرُ النَّاسِ .فَکَانَ الْاِمَامُ وَغَیْرُہُ - فِی الذَّبْحِ قَبْلَ الصَّلَاۃِ - سَوَائً فِیْ أَنْ لَا یُجْزِئَہُمْ .فَالنَّظَرُ عَلٰی ذٰلِکَ أَنْ یَکُوْنَ الْاِمَامُ ، وَسَائِرُ النَّاسِ أَیْضًا ، سَوَائً فِی الذَّبْحِ بَعْدَ الصَّلَاۃِ .فَکَمَا کَانَ ذَبْحُ الْاِمَامِ بَعْدَ الصَّلَاۃِ یُجْزِئُہٗ، فَکَذٰلِکَ ذَبْحُ سَائِرِ النَّاسِ بَعْدَ الصَّلَاۃِ یُجْزِئُہُمْ .ہٰذَا ہُوَ النَّظَرُ فِیْ ہٰذَا ، وَہُوَ قَوْلُ أَبِیْ حَنِیْفَۃَ ، وَأَبِیْ یُوْسُفَ ، وَمُحَمَّدٍ رَحْمَۃُ اللّٰہِ عَلَیْہِمْ أَجْمَعِیْنَ .
٦٠٧٣: شعبی نے ابی شریح سے نقل کیا کہ ابوبکر و عمر (رض) بعض اوقات قربانی نہ کرتے تھے یعنی قربانی کی سکت نہ ہونے کی وجہ سے۔ امام طحاوی (رح) فرماتے ہیں : کیا تمہارا خیال یہ ہے کہ جن سالوں میں ان حضرات نے قربانی نہیں کی تو کیا کسی نے بھی قربانی نہیں کی اس لیے کہ ان کے امام نے قربانی نہیں کی یا تم نے کہیں یہ بات پائی ہو کہ امام عید قربان کے دن دشمن کے ساتھ لڑائی وغیرہ میں مشغول رہا جس سے وہ قربانی نہ کرسکا تو کیا ان کے علاوہ دوسرے بھی قربانی نہیں کریں گے۔ اس سال کسی کو بھی قربانی نہ کرنی چاہیے اس سے وہ قربانی نہ کرنے والا امت کے قول سے نکل گیا اور اگر اس نے لوگوں کو کہا کہ وہ قربانی کرلیں جبکہ سورج ڈھل جائے اور نماز کا وقت چلا جائے تو اس سے یہ بات ثابت ہوگئی کہ جب تک نماز عید کا وقت ہے اس وقت تک قربانی درست نہیں تو درحقیقت نماز عید ہی قربانی کے لیے رکاوٹ ہے امام کا ذبح کرنا نہیں جب امام نے نماز پڑھ لی تو ذبح کرنا جائز ہوگیا جو شخص کہ قربانی کرنا چاہتا ہو ذرا توجہ تو کریں کہ امام اگر نماز پڑھانے سے پہلے خود قربانی کرلے تو اس کی بھی درست نہیں اور دوسرے لوگ بھی حکم میں اسی طرح ہیں۔ میں امام اور غیر امام نماز سے پہلے قربانی کے ناجائز ہونے میں برابر ہیں۔ پس نظر کا تقاضا یہ ہے کہ امام اور دوسرے لوگ نماز کے بعد ذبح میں برابر ہیں پس جس طرح امام کا ذبیحہ نماز کے بعد اس لیے کافی ہے اسی طرح بقیہ لوگوں کا ذبیحہ بھی نماز کے بعد ان کے لیے کافی ہے قیاس کا یہی تقاضا ہے ہمارے امام ابوحنیفہ ‘ ابو یوسف اور محمد رحمہم اللہ کا یہی قول ہے۔