hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 6099

.

الطحاوي

6099
Al Tahawi
۶۰۹۷: حَدَّثَنَا رَبِیْعٌ الْمُؤَذِّنُ ، قَالَ : ثَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِیْ ذِئْبٍ ، عَنْ یَزِیْدَ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ قُسَیْطٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ ثَوْبَانَ ، عَنْ أُنَاسٍ مِنْ أَصْحَابِ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، مِثْلَہٗ۔فَلَمَّا جُعِلَتِ الْبَقَرَۃُ عَنْ سَبْعَۃٍ ، وَکَانَ ذٰلِکَ مِمَّا قَدْ وَقَفَ عَلَیْہٖ، وَلَمْ یَجْعَلْ لَنَا أَنْ نَعْدُوَ ذٰلِکَ اِلٰی مَا ہُوَ أَکْثَرُ مِنْہٗ، کَانَتِ الشَّاۃُ أَحْرَی أَنْ لَا تُجْزِئَ عَنْ أَکْثَرَ مِمَّا تُجْزِئُ عَنْہُ الْبَقَرَۃُ مِنْ ذٰلِکَ .فَلَمَّا ثَبَتَ أَنَّ الشَّاۃَ لَا تُجْزِئُ عَنْ أَکْثَرَ مِنْ سَبْعَۃٍ ، انْتَفَی بِذٰلِکَ قَوْلُ مَنْ قَالَ : اِنَّہَا تُجْزِئُ عَنْ جَمِیْعِ مَنْ ذُبِحَتْ عَنْہُ، مِمَّنْ لَا وَقْتَ لَہُمْ وَلَا عَدَدَ ، وَلَا یُجَاوِزُ اِلَی غَیْرِہٖ، وَثَبَتَ ضِدُّہٗ، وَہُوَ قَوْلُ مَنْ قَالَ : اِنَّ الشَّاۃَ لَا تُجْزِئُ اِلَّا عَنْ وَاحِدٍ .فَقَالَ قَائِلٌ : اِنَّا اِنَّمَا جَعَلْنَا الشَّاۃَ تُجْزِئُ عَنْ أَکْثَرَ مِمَّا تُجْزِئُ عَنْہُ الْبَقَرَۃُ وَالْجَزُوْرُ ، لِأَنَّ الشَّاۃَ أَفْضَلُ مِنْہُمَا .فَقِیْلَ لَہٗ : وَلِمَ قُلْتُ ذٰلِکَ ؟ وَمَا دَلِیْلُک عَلَیْہٖ؟ وَقَدْ رُوِیَ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ۔
٦٠٩٧: محمد بن عبدالرحمن بن ثوبان نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے چند اصحاب (رض) سے اسی طرح کی روایت کی ہے۔ جب ثابت ہوگیا کہ گائے سات سے زائد حصوں میں تقسیم نہیں ہوسکتی۔ جب ان سے سات پر اکتفا ثابت ہوا تو ہمیں ان سے زائد یا اکثر کی طرف تعدیہ جائز نہیں۔ تو بکری میں سات سے اضافہ نہ ہونا بدرجہ اولیٰ ثابت ہوا۔ اب جبکہ بکری سات سے زائد کے لیے کافی نہیں تو ان لوگوں کی بات نادرست ہوگئی جو کہتے ہیں کہ یہ ان سب کی طرف سے کافی ہوگئی جن کی طرف سے وہ ذبح کی گئی جن کی تعداد غیر معین ہے اور یہ حکم اس کے علاوہ کی طرف تجاوز نہ کرے گا تو اب اس کی ضد ثابت ہوگئی اور وہ ان لوگوں کا قول ہے جو کہتے ہیں کہ بکری صرف ایک آدمی کی طرف سے کفایت کرے گی۔ اگر کوئی معترض کہے کہ بکری کو افضل ہونے کی وجہ سے سات سے زائد افراد و اشخاص کے لیے جائز قرار دیا۔ ان کو جواب میں کہا جائے گا کہ تمہارے پاس اس بات کی کیا دلیل ہے کہ بکری سب سے افضل ہے اور اس افضلیت کی وجہ سے تم نے اس کو سات سے بھی زائد افراد کے لیے جائز قرار دے دیا۔ حالانکہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا فرمان یہ ہے۔