hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 6100

.

الطحاوي

6100
Al Tahawi
۶۰۹۸: مَا قَدْ حَدَّثَنَا یَزِیْدُ بْنُ سِنَانٍ قَالَ : ثَنَا أَبُوْبَکْرٍ الْحَنَفِیُّ قَالَ : ثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ نَافِعٍ ، عَنْ أَبِیْہِ‘ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کَانَ یُضَحِّی بِالْجَزُوْرِ ، وَبِالْکَبْشِ ، اِذَا لَمْ یَجِدْ جَزُوْرًا .فَأَخْبَرَ عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ عُمَرَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا فِیْ ہٰذَا الْحَدِیْثِ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کَانَ یُضَحِّی بِالْجَزُوْرِ اِذَا وَجَدَہٗ، وَذٰلِکَ دَلِیْلٌ عَلٰی أَنَّہٗ کَانَ یَدَعُ مَا سِوَاہٗ، مِمَّا یُضَحَّی بِہٖ مِنَ الْبَقَرِ وَالْغَنَمِ ، وَہُوَ قَادِرٌ عَلَیْہٖ، وَیُضَحِّی بِالشَّاۃِ اِذَا لَمْ یَقْدِرْ عَلَی الْجَزُوْرِ ، فَذٰلِکَ دَلِیْلٌ عَلٰی أَنَّ الْجَزُوْرَ کَانَ عِنْدَہٗ أَفْضَلَ مِنِ الشَّاۃِ .وَقَدْ رَأَیْنَا الْہَدَایَا فِی الْحَجِّ ، جُعِلَ لِلْبَدَنَۃِ فِیْہَا مِنَ الْفَضْلِ ، مَا لَمْ یُجْعَلْ لِلشَّاۃِ ، فَجُعِلَتِ الْبَدَنَۃُ مِمَّا یَشْتَرِکُ فِیْہَا الْجَمَاعَۃُ فَیُہْدُوْنَہَا عَنْ قِرَانِہِمْ وَمُتْعَتِہِمْ ، وَلَمْ تُجْعَلْ الشَّاۃُ کَذٰلِکَ .فَمَا رُوِیَ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مِنْ اِبَاحَۃِ الشَّرِکَۃِ فِی الْہَدْیِ اِذَا کَانَ جَزُوْرًا ، مَا ۔
٦٠٩٨: نافع نے ابن عمر (رض) سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اونٹوں کی قربانی کرتے اور مینڈھے کی قربانی کرتے جب اونٹ نہ ہوتا۔ نافع نے ابن عمر (رض) سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اونٹوں کی قربانی کرتے اور مینڈھے کی قربانی کرتے جب اونٹ نہ ہوتا۔ اس روایت ابن عمر (رض) نے یہ اطلاع دی کہ جب اونٹ ملتا تو اس وقت آپ اونٹ کی قربانی کرتے اگر وہ نہ ملتا تو تب مینڈھے کی قربانی کرتے یہ اس بات کی دلیل ہے کہ اونٹ کے علاوہ گائے بکری کی قربانی اونٹ نہ ہونے کی صورت میں فرماتے۔ اس سے ثابت ہوا کہ اونٹ کی قربانی آپ کے ہاں سب سے افضل تھی اور بکری سے افضل تھی۔ حج کے ہدایا میں بدنہ کی افضلیت دی گئی ہے جو کہ بکری کو حاصل نہیں۔ بدنہ کو ایک جماعت کی طرف قربانی اور ہدی کے لیے مقرر کیا گیا جبکہ وہ قران و تمتع کریں اور بکری کو جماعت کی طرف سے قرار نہیں دیا گیا۔ شراکت ہدی کی روایات ملاحظہ ہوں۔