hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 610

.

الطحاوي

610
Al Tahawi
۶۱۰ : مَا حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِیْ دَاوٗدَ قَالَ : ثَنَا الْوَہْبِیُّ قَالَ : ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِیْہِ، عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا قَالَتْ : إِنَّمَا ہِیَ (سَہْلَۃُ ابْنَۃُ سُہَیْلِ بْنِ عَمْرٍو، اُسْتُحِیْضَتْ، وَأَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کَانَ یَأْمُرُہَا بِالْغُسْلِ عِنْدَ کُلِّ صَلَاۃٍ فَلَمَّا أَجْہَدَہَا ذٰلِکَ أَمَرَہَا أَنْ تَجْمَعَ الظُّہْرَ وَالْعَصْرَ فِیْ غُسْلٍ وَاحِدٍ، وَالْمَغْرِبَ وَالْعِشَائَ فِیْ غُسْلٍ وَاحِدٍ، وَتَغْتَسِلَ لِلصُّبْحِ) .قَالُوْا : فَدَلَّ ذٰلِکَ عَلٰی أَنَّ ھٰذَا الْحُکْمَ نَاسِخٌ لِلْحُکْمِ الَّذِیْ فِی الْآثَارِ الْأُوَلِ، لِأَنَّہٗ إِنَّمَا أَمَرَ بِہٖ بَعْدَ ذٰلِکَ، فَصَارَ الْقَوْلُ بِہٖ أَوْلٰی مِنَ الْقَوْلِ بِالْآثَارِ الْأُوَلِ .قَالُوْا : وَقَدْ رُوِیَ ذٰلِکَ أَیْضًا، عَنْ عَلِیٍّ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ، وَابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہٗ .فَذَکَرُوْا
٦١٠: قاسم کہتے ہیں کہ حضرت عائشہ (رض) کہتی ہیں کہ سھلہ بنت سہیل کو استحاضہ کی شکایت ہوئی جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس کو ہر نماز کے لیے غسل کا حکم فرماتے رہے جب اس کو اس بات نے عاجز کردیا تو پھر آپ نے اس کو ظہر و عصر ایک غسل سے اور مغرب و عشاء ایک غسل سے اور فجر ایک غسل سے ادا کرنے کا حکم فرمایا۔ انھوں نے فرمایا اس سے یہ دلالت مل گئی کہ یہ حکم اس حکم کو منسوخ کرنے والا ہے جو کہ پہلے آثار میں وارد ہوا ہے کیونکہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ حکم اس کے بعد دیا پس یہ قول اس قول سے بہتر ہوا جو پہلے آثار میں پایا جاتا ہے اور انھوں نے یہ بھی فرمایا کہ حضرت ابن عباس (رض) اور حضرت علی (رض) سے یہ بات وارد ہوئی ‘ ملاحظہ ہو۔
تخریج : ابو داؤد ١؍٤١۔
فریق دوم : کا یہ دعویٰ ہے کہ یہ حکم پہلے کا ناسخ ہے کیونکہ روایت سے صاف طور پر اس کا بعد میں ہونا معلوم ہو رہا ہے پس اس کو اختیار کرنا منسوخ پر عمل سے اولیٰ ہے۔
نمبر ٢: گزشتہ آثار میں حضرت علی اور ابن عباس (رض) کے فتاویٰ کو تائید میں پیش کر کے بات کو پختہ کیا گیا تھا تو انھوں نے انہی کے ایسے آثار پیش کر دے جو پہلے قول سے متضاد اور دوسرے قول کے عین موافق ہیں یہ بھی نسخ کی مزید دلیل بن گئی۔