۶۱۱ : مَا حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِیْ دَاوٗدَ قَالَ : ثَنَا أَبُوْ مَعْمَرٍ قَالَ : ثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ قَالَ : ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جُحَادَۃَ عَنْ إِسْمَاعِیْلَ بْنِ رَجَائٍ، عَنْ سَعِیْدِ بْنِ جُبَیْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ قَالَ : جَائَ تْہُ امْرَأَۃٌ مُسْتَحَاضَۃٌ تَسْأَلُہٗ، فَلَمْ یُفْتِہَا، وَقَالَ لَہَا : سَلِیْ غَیْرِی .قَالَ : فَأَتَتْ ابْنَ عُمَرَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ فَسَأَلَتْہُ، فَقَالَ لَہَا : لَا تُصَلِّیْ مَا رَأَیْتِ الدَّمَ، فَرَجَعَتْ إِلَی ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ فَأَخْبَرَتْہُ، فَقَالَ رَحِمَہُ اللّٰہُ : إِنْ کَادَ لَیُکَفِّرُکِ .قَالَ : ثُمَّ سَأَلْتُ عَلِیَّ بْنَ أَبِیْ طَالِبٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ فَقَالَ : (تِلْکَ رِکْزَۃٌ مِنَ الشَّیْطَانِ، أَوْ قُرْحَۃٌ فِی الرَّحِمِ، اغْتَسِلِیْ عِنْدَ کُلِّ صَلَاتَیْنِ مَرَّۃً، وَصَلِّ) .قَالَ : فَلَقِیْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ بَعْدُ، فَسَأَلْتُہٗ، فَقَالَ : مَا أَجِدُ لَک إِلَّا مَا قَالَ عَلِیٌّ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہٗ.
٦١١: سعید بن جبیر نے بیان کیا کہ ابن عباس (رض) کہتے ہیں کہ ایک مستحاضہ عورت آئی اور ان سے استحاضہ کے متعلق استفسار کیا تو انھوں نے فرمایا میرے علاوہ اور کسی سے پوچھو وہ عورت ابن عمر (رض) کی خدمت میں آئی اور ان سے سوال کیا تو انھوں نے فرمایا جب تک خون دیکھو نماز نہ پڑھو وہ ابن عباس (رض) کی طرف لوٹی تو انھوں نے فرمایا اللہ تعالیٰ ان پر رحم کرے قریب تھا کہ وہ تمہیں کفر (ترک صلوۃ) پر آمادہ کردیتے۔ سعید کہتے ہیں پھر میں نے علی (رض) سے سوال کیا تو انھوں نے فرمایا یہ شیطان کی ایڑی لگنے سے ہے یا پھر رحم کے زخم سے ہر دو نمازوں کے لیے غسل کر کے نماز پڑھ لیا کرو سعید کہتے ہیں پھر میں ابن عباس (رض) کو ملا تو انھوں نے فرمایا میں تیرے اس سوال کا وہی جواب پاتا ہوں جو علی (رض) نے کہا۔
تخریج : ابن ابی شیبہ ١؍١٢٠۔