۶۱۰۷: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خُزَیْمَۃَ قَالَ : ثَنَا حَجَّاجُ بْنُ الْمِنْہَالِ قَالَ : ثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ اِسْحَاقَ عَنِ الْعَلَائِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِیْہَ قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا سَعِیْدٍ الْخُدْرِیَّ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ یَقُوْلُ : قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَذَکَرَ مِثْلَہٗ۔فَلَمَّا جَعَلَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ الْمُہَجِّرَ فِیْ أَفْضَلِ الْأَوْقَاتِ کَالْمُہْدِیْ بَدَنَۃً ، وَالْمُہَجِّرَ فِی الْوَقْتِ الَّذِیْ بَعْدَہٗ، کَالْمُہْدِیْ بَقَرَۃً ، وَالْمُہَجِّرَ فِی الثَّالِثِ ، کَالْمُہْدِیْ کَبْشًا ثَبَتَ بِذٰلِکَ أَنَّ أَفْضَلَ مَا یُہْدَی الْجَزُوْرُ ، ثُمَّ الْبَقَرَۃُ ، ثُمَّ الْکَبْشُ .فَلَمَّا کَانَتِ الْبَدَنَۃُ أَعْظَمَ مَا یُہْدَی ، ثَبَتَ أَنَّہَا أَعْظَمُ مَا یُضَحَّی بِہٖ .وَلَمَّا انْتَفَی أَنْ تُجْزِئَ الشَّاۃُ عَمَّا فَوْقَ السَّبْعَۃِ ، ثَبَتَ أَنَّہَا لَا تُجْزِئُ اِلَّا عَنْ خَاص مِنَ النَّاسِ .وَلَمَّا کَانَتْ بِاتِّفَاقِہِمْ - لَا تُجْزِئُ فِی الْأُضْحِیَّۃِ عَمَّا فَوْقَ السَّبْعَۃِ ، کَانَتِ الشَّاۃُ أَحْرَی أَنْ لَا تُجْزِئَ عَنْ ذٰلِکَ وَقَدْ أَجْمَعُوْا عَلٰی أَنَّہَا مُجْزِئَۃٌ عَنِ الْوَاحِدِ ، وَاخْتَلَفُوْا فِیْمَا ہُوَ أَکْثَرُ مِنْہٗ، فَلَا یَدْخُلُ فِیْمَا قَدْ ثَبَتَ لَہٗ حُکْمُ الْخُصُوْصِیَّۃِ اِلَّا مَا قَدْ أَجْمَعُوْا عَلَی دُخُوْلِہِ فِیْہِ .فَثَبَتَ بِمَا ذَکَرْنَا أَنَّہٗ لَا یَجُوْزُ أَنْ یُضَحَّی بِالشَّاۃِ الْوَاحِدَۃِ عَنْ اثْنَیْنِ ، وَلَا عَنْ أَکْثَرَ مِنْ ذٰلِکَ ، وَہُوَ قَوْلُ أَبِیْ حَنِیْفَۃَ وَأَبِیْ یُوْسُفَ ، وَمُحَمَّدٍ رَحْمَۃُ اللّٰہِ عَلَیْہِمْ أَجْمَعِیْنَ .
٦١٠٧: علاء بن عبدالرحمن نے اپنے والد سے انھوں نے نقل کیا کہ میں نے حضرت ابو سعید خدری (رض) کو فرماتے سنا کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا پھر اسی طرح روایت نقل کی ہے۔ جب جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے افضل اوقات میں پہلے کرنے والے کو ہدی میں اونٹ قربان کرنے والے کی طرح قرار دیا اور اس کے بعد والے وقت میں آنے والے کو گائے ہدی کے طور پر دینے والے کی طرح اور تیسرے نمبر پر آنے والے کو مینڈھا ہدی میں دینے والے کی طرح قرار دیا تو اس سے ثابت ہوگیا کہ سب سے افضل ہدی اونٹ پھر گائے پھر مینڈھا ہے۔ جبکہ اونٹ سب سے اعلیٰ ہدی ہے تو اس سے ثابت ہوگیا کہ اس کی قربانی سب سے افضل ہے۔ جب اس بات کی نفی ہوگئی کہ بکری سات سے اوپر افراد کی طرف سے جائز نہیں اور یہ بھی ثابت ہوگیا کہ یہ صرف خاص لوگوں سے کفایت کرنے والی ہے۔ جب اس پر سب کا اتفاق ہے سات سے اوپر افراد اکٹھے ایک جانور کی قربانی نہیں دے سکتے تو بکری زیادہ مناسب ہے کہ وہ سات سے اوپر کی طرف سے جائز نہ ہو اور اس پر بھی اتفاق ہے کہ بکری ایک فرد کی طرف سے جائز ہے ایک سے زیادہ میں اختلاف ہوا تو جس کے لیے خصوصیت کا حکم ثابت تو اس میں وہی فرد داخل ہونا چاہیے جس میں اتفاق ہے۔ (اور وہ ایک ہے) پس ثابت ہوا کہ بکری کی قربانی صرف ایک کی طرف سے ہوگی نہ دو اور نہ دو سے زیادہ کی طرف سے۔ یہی ابوحنیفہ ‘ ابو یوسف ‘ محمد رحمہم اللہ کا قول ہے۔