۶۱۰۸: حَدَّثَنَا اِبْرَاھِیْمُ بْنُ مَرْزُوْقٍ قَالَ : ثَنَا بِشْرُ بْنُ ثَابِتٍ الْبَزَّازُ ، قَالَ : ثَنَا شُعْبَۃُ عَنْ مَالِکِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُسْلِمٍ ، عَنْ سَعِیْدِ بْنِ الْمُسَیِّبِ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَنَّہٗ قَالَ مَنْ رَأَی مِنْکُمْ ہِلَالَ ذِی الْحِجَّۃِ ، وَأَرَادَ أَنْ یُضَحِّیَ ، فَلَا یَأْخُذْ مِنْ شَعْرِہِ وَأَظْفَارِہٖ، حَتّٰی یُضَحِّیَ .
٦١٠٨: سعید بن مسیب نے حضرت امّ سلمہ (رض) سے انھوں نے جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے روایت کی ہے کہ جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جو شخص تم میں سے ذی الحجہ کا چاند دیکھ لے اور وہ قربانی کا ارادہ رکھتا ہو وہ اپنے بال و ناخن نہ تراشے جب تک کہ قربانی سے فارغ نہ ہوجائے۔
تخریج : مسلم فی الاضاحی باب ٤٢‘ ابو داؤد فی الاضاحی باب ٢‘ ترمذی فی الاضاحی باب ٢‘ نسائی فی الضحایا باب ١‘ ابن ماجہ فی الاضاحی باب ١١۔
قربانی کی نیت والا ذوالحجہ میں بال و ناخن کاٹ سکتا ہے یا نہیں۔ فریق اول کا قول یہ ہے کہ بال و ناخن کاٹنا جائز نہیں ہے۔
فریق ثانی کا کہنا ہے کہ بال و ناخن ترشوانے میں گناہ نہیں البتہ اگر قربانی والا شخص بطور استحباب نہ کٹوائے تو ثواب کا حقدار ہوگا اس قول کو امام ابوحنیفہ (رح) اور صاحبین نے اختیار کیا ہے۔