hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 6111

.

الطحاوي

6111
Al Tahawi
۶۱۰۹: حَدَّثَنَا رَبِیْعٌ الْجِیزِیُّ قَالَ : ثَنَا أَبُوْ صَالِحٍ ، قَالَ : ثَنَا اللَّیْثُ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ زَیْدٍ ، عَنْ سَعِیْدِ بْنِ أَبِیْ ہِلَالٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُسْلِمٍ أَنَّہٗ قَالَ : أَخْبَرَنِیْ سَعِیْدُ بْنُ الْمُسَیِّبِ أَنَّ أُمَّ سَلَمَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا ، زَوْجَ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَذَکَرَ مِثْلَہٗ۔قَالَ اللَّیْثُ : قَدْ جَائَ ہٰذَا، وَأَکْثَرُ النَّاسِ عَلَی غَیْرِہٖ۔ قَالَ أَبُوْ جَعْفَرٍ : فَذَہَبَ قَوْمٌ اِلَی ہٰذَا الْحَدِیْثِ ، فَقَلَّدُوْھُ ، وَجَعَلُوْھُ أَصْلًا .وَخَالَفَہُمْ فِیْ ذٰلِکَ آخَرُوْنَ ، فَقَالُوْا : لَا بَأْسَ بِقَصِّ الْأَظْفَارِ وَالشَّعْرِ ، فِیْ أَیَّامِ الْعَشْرِ ، لِمَنْ عَزَمَ عَلٰی أَنْ یُضَحِّیَ ، وَلِمَنْ لَمْ یَعْزِمْ عَلٰی ذٰلِکَ .وَاحْتَجُّوْا فِیْ ذٰلِکَ ، بِمَا قَدْ ذَکَرْنَاہُ فِیْ کِتَابِ الْحَجِّ ، عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا أَنَّہَا قَالَتْ : کُنْتُ أَفْتِلُ قَلَائِدَ ہَدْیِ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَیَبْعَثُ بِہَا ، ثُمَّ یُقِیْمُ فِیْنَا حَلَالًا ، لَا یَجْتَنِبُ شَیْئًا مِمَّا یَجْتَنِبُہُ الْمُحْرِمُ ، حَتّٰی یَرْجِعَ النَّاسُ .فَفِیْ ذٰلِکَ دَلِیْلٌ عَلَی اِبَاحَۃِ مَا قَدْ حَظَرَہُ الْحَدِیْثُ الْأَوَّلُ .وَمَجِیْئُ حَدِیْثِ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا أَحْسَنُ مِنْ مَجِیْئِ حَدِیْثِ أُمِّ سَلَمَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا ، لِأَنَّہٗ جَائَ مَجِیْئًا مُتَوَاتِرًا .وَحَدِیْثُ أُمِّ سَلَمَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا ، لَمْ یَجِئْ کَذٰلِکَ ، بَلْ قَدْ طُعِنَ فِیْ اِسْنَادِ حَدِیْثِ مَالِکٍ ، فَقِیْلَ : اِنَّہٗ مَوْقُوْفٌ عَلٰی أُمِّ سَلَمَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا .
٦١٠٩: سعید بن مسیب نے امّ المؤمنین حضرت امّ سلمہ (رض) سے روایت کی ہے پھر اسی طرح کی روایت نقل کی ہے۔ امام لیث کہتے ہیں یہ حکم تو بہت وارد ہوا مگر اکثر لوگ اس کے خلاف عمل کرتے ہیں۔ بعض نے اس روایت سے استدلال کیا اور اس کو اصل لازم قرار دیا۔ بال و ناخن ایام ذی الحجہ میں ترشوانے میں کوئی حرج نہیں اس میں وہ آدمی جو قربانی کرنا چاہتا ہو اور اس کے لیے بھی جو قربانی کا عزم نہ رکھتا ہو۔ انھوں نے اپنی دلیل میں حضرت عائشہ (رض) کی اس روایت سے استدلال کیا کہ میں جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ہدی کے قلادے بناتی تھی آپ ہدی روانہ کرتے پھر گھر میں بلا احرام مقیم رہتے اور جن چیزوں سے محرم پرہیز کرتا ہے ان میں سے کسی چیز سے بھی پرہیز نہ کرتے یہاں تک کہ لوگ لوٹ آتے۔ اس روایت میں اس چیز کو مباح قرار دیا گیا جس کی ممانعت پہلی روایت میں وارد ہے روایت عائشہ (رض) کا لانا روایت امّ سلمہ (رض) سے بہتر ہے کہ کیونکہ یہ روایت متواتر طرق سے وارد ہوئی ہے جبکہ روایت امّ سلمہ (رض) اس طرح نہیں بلکہ مالک کی سند سے آنے والی روایت موقوف ہے مرفوع نہیں۔
تخریج : بخاری فی الحج باب ١٠٧‘ مسلم فی الحج ٣٥٩‘ ابو داؤد فی المناسک باب ١٦‘ ترمذی فی الحج باب ٧٠‘ نسائی فی المناسک باب ٦٥‘ دارمی فی المناسک باب ٨٦‘ مسند احمد ٦‘ ٣٥؍٢١٣‘ ٢١٦؍٢٢٥‘ ٢٣٦؍٢٥٣‘ ٢٦٢۔