۶۱۱۴: بِمَا حَدَّثَنَا یُوْنُسُ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا ابْنُ وَہْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِی ابْنُ أَبِیْ ذِئْبٍ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عُبَیْدِ اللّٰہِ بْنِ رَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ ہُرْمُزَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ رَبِیْعَۃَ ، قَالَ : رَآنِیْ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ، طَوِیْلَ الشَّارِبِ ، وَذٰلِکَ بِذِی الْحُلَیْفَۃِ ، وَأَنَا عَلٰی نَاقَتِی ، وَأَنَا أُرِیْدُ الْحَجَّ ، فَأَمَرَنِیْ أَنْ أَقُصَّ مِنْ شَعْرِی ، فَفَعَلْت .وَلَا حُجَّۃَ عِنْدَنَا فِیْ ہٰذَا ، لِأَنَّہٗ لَا یُرِیْدُ أَنْ یُضَحِّیَ، اِذَا کَانَ یُرِیْدُ الْحَجَّ ، فَلَا حُجَّۃَ فِیْ ہٰذَا عَلٰی أَہْلِ الْمَقَالَۃِ الْأُوْلٰی لِأَنَّہُمْ اِنَّمَا یَمْنَعُوْنَ مِنْ ذٰلِکَ مَنْ أَرَادَ أَنْ یُضَحِّیَ .وَحُجَّۃٌ أُخْرٰی تَدْفَعُ ہٰذَا الْحَدِیْثَ أَنْ یَکُوْنَ فِیْہِ حُجَّۃٌ عَلَیْہِمْ ، وَذٰلِکَ أَنَّہٗ لَمْ یَذْکُرْ أَنَّ ذٰلِکَ کَانَ فِیْ عَشْرِ ذِی الْحِجَّۃِ ، أَوْ قَبْلَ ذٰلِکَ .
٦١١٤: محمد بن ربیعہ کہتے ہیں کہ مجھے عمر بن خطاب نے دیکھا جبکہ میں ذوالحلیفہ میں اپنی اونٹنی پر سوار حج کا ارادہ کررہا تھا اور میری مونچھیں لمبی تھیں مجھے حضرت عمر (رض) نے فرمایا کہ میں اپنے بال کاٹ لوں چنانچہ میں نے اپنے بال کاٹ لئے۔
اس روایت میں ہمارے لیے بھی کوئی دلیل نہیں۔ اس لیے کہ وہ قربانی کا ارادہ تو رکھتا نہیں جبکہ وہ حج کا ارادہ رکھتا ہے تو فریق اول کے خلاف بھی کوئی دلیل نہیں کیونکہ وہ ناخن کاٹنا وغیرہ اس کے لیے ممنوع قرار دیتے ہیں جو قربانی کرنا چاہتا ہو اور دوسری بات یہ ہے کہ یہ روایت فریق اول کے خلاف دلیل بھی کیسے بنے۔ جبکہ اس میں یہ مذکور نہیں کہ یہ عشرہ ذی الحجہ کا واقعہ ہے یا اس سے پہلے کا ہے۔