hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 612

.

الطحاوي

612
Al Tahawi
۶۱۲ : حَدَّثَنَا ابْنُ خُزَیْمَۃَ قَالَ : ثَنَا حَجَّاجٌ قَالَ : ثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ قَیْسِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ مُجَاہِدٍ قَالَ : قِیْلَ لِابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ : إِنَّ أَرْضَنَا أَرْضٌ بَارِدَۃٌ .قَالَ : تُؤَخِّرُ الظُّہْرَ، وَتُعَجِّلُ الْعَصْرَ، وَتَغْتَسِلُ لَہُمَا غُسْلًا وَاحِدًا، وَتُؤَخِّرُ الْمَغْرِبَ، وَتُعَجِّلُ الْعِشَائَ، وَتَغْتَسِلُ لَہُمَا غُسْلًا، وَتَغْتَسِلُ لِلْفَجْرِ غُسْلًا فَذَہَبَ ہٰؤُلَائِ إِلٰی ھٰذِہِ الْآثَارِ وَخَالَفَہُمْ فِیْ ذٰلِکَ آخَرُوْنَ، فَقَالُوْا: تَدَعُ الْمُسْتَحَاضَۃُ الصَّلَاۃَ أَیَّامَ أَقْرَائِہَا، ثُمَّ تَغْتَسِلُ وَتَتَوَضَّأُ لِکُلِّ صَلَاۃٍ وَتُصَلِّیْ. وَذَہَبُوْا فِیْ ذٰلِکَ إِلٰی۔
٦١٢: قیس بن سعد نے کہا کہ مجاہد کہتے ہیں کہ ابن عباس (رض) سے پوچھا گیا ہمارا علاقہ ٹھنڈا ہے فرمایا ظہر کو موخر اور عصر کو مقدم کر کے ان کے لیے مستحاضہ ایک غسل کرے اور مغرب کو مؤخر اور عشاء کو جلدی کر کے ان کے لیے ایک غسل کرے اور فجر کے لیے ایک غسل کرے۔ پس یہ علماء ان آثار کو اختیار کرنے والے ہیں۔ علماء کی ایک اور جماعت اس میں ان کی مخالف ہے۔ چنانچہ انھوں نے فرمایا کہ مستحاضہ عورت حیض کے ایّام میں نماز ترک کرے پھر اس سے ایک غسل کرے اور آئندہ ہر نماز کے لیے وضو کر کے نماز اد ا کرتی رہے۔ چنانچہ ان آثار سے انھوں نے استدلال کیا۔
تخریج : الدارمی ١؍٢٢٥۔
حاصل روایات : ان ساتوں روایات سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ ہر دو نمازوں کو صورۃً جمع کر کے ان کے لیے ایک غسل کیا جائے گا اور ان دونوں نمازوں کے لیے درمیان میں اگر حدث لاحق ہو پھر وضو کیا جائے گا۔
نمبر ٢: ان سے پہلی روایات کا منسوخ ہونا ظاہر ہے ان میں بعض روایات ان صحابہ کرام (رض) سے بھی ہیں جن کی روایات فریق اوّل نے پیش کی ہیں تو تقدیم و تاخیر معلوم ہوجانے سے ان کا منسوخ ہونا ظاہر ہوا۔
فریق سوم : کا مؤقف مستحاضہ ایام حیض میں نماز و روزہ سے رک جائے پھر ان کے ختم ہونے پر غسل کرے اور آئندہ ہر نماز کے لیے نیا وضو کرے۔