۶۱۲۰: حَدَّثَنَا اِبْرَاھِیْمُ بْنُ مَرْزُوْقٍ قَالَ : ثَنَا یَعْقُوْبُ بْنُ اِسْحَاقَ قَالَ : ثَنَا سَلَمُ بْنُ زُرَیْرٍ ، عَنْ أَبِیْ رَجَائٍ ، مِثْلَہٗ۔أَفَلَا تَرَی أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا ، قَدْ بَیَّنَ فِیْ حَدِیْثِہٖ، ہٰذَا الْمَعْنَی الَّذِی بِہٖ حَرُمَ أَکْلُ مَا ذُبِحَ بِالظُّفْرِ ، أَنَّہٗ الْخَنْقُ ، لِأَنَّ مَا ذُبِحَ بِہٖ ، فَاِنَّمَا ذُبِحَ بِکَف ، لَا بِغَیْرِہَا فَہُوَ مَخْنُوْقٌ .فَدَلَّ ذٰلِکَ أَنَّ مَا نُہِیَ عَنْہُ مِنَ الذَّبْحِ بِالظُّفْرِ ، ہُوَ الظُّفْرُ الْمُرَکَّبُ فِی الْکَفِّ ، لَا الظُّفْرُ الْمَنْزُوْعُ .وَکَذٰلِکَ مَا نُہِیَ عَنْہُ، مَعَ ذٰلِکَ مِنَ الذَّبْحِ بِالسِّنِّ ، فَاِنَّمَا ہُوَ عَلَی السِّنِّ الْمُرَکَّبَۃِ فِی الْفَمِ ، لِأَنَّ ذٰلِکَ یَکُوْنُ عَضًّا ، فَأَمَّا السِّنُّ الْمَنْزُوْعَۃُ فَلَا .وَہٰذَا قَوْلُ أَبِیْ حَنِیْفَۃَ ، وَأَبِیْ یُوْسُفَ ، وَمُحَمَّدٍ ، رَحْمَۃُ اللّٰہِ عَلَیْہِمْ أَجْمَعِیْنَ .
٦١٢٠: یعقوب بن اسحق نے بیان کیا کہ ہمیں سلم بن زریر نے ابو رجاء سے اسی طرح روایت بیان کی ہے۔ کیا تم غور نہیں کرتے ہو کہ ابن عباس (رض) نے اپنی روایت میں وضاحت کردی کہ یہ طریق کار جس سے ناخن کے ذبیحہ کا کھانا حرام ہوا وہ گلہ دبانا ہے کیونکہ جو اس طریقے سے ذبح کیا جائے گا وہ ہتھیلی سے ذبح ہوگا نہ کہ اور کسی چیز سے اس لیے وہ گلہ گھونٹا ہوا شمار ہوگا پس اس سے یہ ثبوت مل گیا کہ جس ناخن سے ذبح کرنا ممنوع ہے وہ ناخن ہے جو ہتھیلی سے جڑا ہوا ہو وہ ناخن مراد نہیں جو کہ الگ ہو اس طرح جس دانت سے ذبح کرنا ممنوع ہے اس سے مراد وہ دانت ہے جو منہ میں گھڑا ہوا ہو کیونکہ یہ عضو کے اندر آئے گا۔ رہا الگ دانت تو اس کا ذبیحہ ممنوع نہیں یہی امام ابوحنیفہ ‘ ابو یوسف اور محمد رحمہم اللہ کا قول ہے۔