hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 6151

.

الطحاوي

6151
Al Tahawi
۶۱۴۹: حَدَّثَنَا فَہْدٌ ، قَالَ : ثَنَا أَبُوْ حَسَّانَ ، قَالَ : ثَنَا اِسْرَائِیْلُ ، عَنْ أَبِیْ اِسْحَاقَ ، عَنْ عَابِسِ بْنِ رَبِیْعَۃَ ، قَالَ : أَتَیْتُ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا فَقُلْتُ :یَا أُمَّ الْمُؤْمِنِیْنَ ، أَکَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ حَرَّمَ لُحُوْمَ الْأَضَاحِیّ فَوْقَ ثَلَاثٍ ؟ .فَقَالَتْ : لَا ، وَلٰـکِنَّہٗ لَمْ یَکُنْ ضَحَّی مِنْہُمْ اِلَّا قَلِیْلٌ ، فَفَعَلَ ذٰلِکَ ، لِیُطْعِمَ مَنْ ضَحَّی مِنْہُمْ مَنْ لَمْ یُضَحِّ ، وَلَقَدْ رَأَیْتُنَا نُخَبِّئُ الْکُرَاعَ ، ثُمَّ نَأْکُلُہَا بَعْدَ ثَلَاثٍ .فَقَدْ یَجُوْزُ أَنْ یَکُوْنَ تِلْکَ الدَّافَّۃُ ، قَدْ کَانَتْ کَثِیْرَۃً ، فَکَانَ النَّاسُ الَّذِیْنَ یُضَحُّوْنَ مَعَہَا قَلِیْلًا ، فَأَمَرَہُمْ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِمَا أَمَرَہُمْ بِہٖ مِنِ الصَّدَقَۃِ ، مِنْ أَجْلِ ذٰلِکَ .فَقَدْ عَادَ مَعْنٰی ہٰذَا أَیْضًا اِلَی مَعْنَی مَا قَبْلَہٗ۔وَقَدْ رُوِیَ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا أَیْضًا أَنَّ ذٰلِکَ الْقَوْلَ مِنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لَمْ یَکُنْ عَلَی الْعَزِیْمَۃِ ، وَلٰـکِنَّہٗ کَانَ مِنْہُ عَلَی التَّرْغِیْبِ لَہُمْ فِی الصَّدَقَۃِ .
٦١٤٩: عابس بن ربیعہ کہتے ہیں کہ میں حضرت عائشہ (رض) کی خدمت میں آیا اور میں نے پوچھا اے امّ المؤمنین کیا جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تین دن سے زیادہ قربانی کا گوشت کو رکھنا حرام قرار دیا تھا کہنے لگی نہیں لیکن قربانیاں بہت تھوڑی ہوتی تھیں تو آپ نے اس کا حکم فرمایا تاکہ قربانی کرنے والا اور نہ کرنے والا دونوں کھا سکیں تم نے دیکھا ہوگا کہ ہم بکریوں کے پائے اٹھا رکھتے ہیں پھر ان کو تین دن کے بعد کھاتے ہیں۔ عین ممکن ہے کہ وہ قافلے کثرت سے ہوں اور لوگوں میں قربانیاں تھوڑی ہوں تو جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو اس بناء پر صدقے کا حکم فرمایا ہو پس اس روایت کا معنی بھی پہلی روایت کی طرف لوٹ گیا اور حضرت عائشہ (رض) سے بھی یہ بات مروی ہے اور یہ سارے گوشت کو صدقہ کردینے والا حکم آپ نے بطور عزیمت نہیں دیا (یعنی لازم کے طور پر) بلکہ آپ نے صدقے کی ترغیب کے لیے یہ بات فرمائی روایت یہ ہے۔
تخریج : نسائی فی الضحایا باب ٣٧‘ مسند احمد ٦؍١٠٢۔