hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 6160

.

الطحاوي

6160
Al Tahawi
۶۱۵۸: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِیْ دَاوٗدَ ، قَالَ : ثَنَا عِیْسَی بْنُ اِبْرَاھِیْمَ الْبِرْکِیُّ ، قَالَ : ثَنَا عَبْدُ الْعَزِیْزِ بْنُ مُسْلِمٍ ، قَالَ : ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ عَلْقَمَۃَ ، عَنْ أَبِیْ سَلَمَۃَ ، عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، مِثْلَہٗ۔فَقَدْ قَامَتِ الْحُجَّۃُ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، بِنَہْیِہِ عَنْ أَکْلِ کُلِّ ذِیْ نَابٍ مِنْ السِّبَاعِ ، وَتَوَاتَرَتْ بِذٰلِکَ الْآثَارُ عَنْہُ .فَلَا یَجُوْزُ أَنْ یَخْرُجَ مِنْ ذٰلِکَ الضَّبُعُ ، اِذَا کَانَتْ ذَاتَ نَابٍ مِنْ السِّبَاعِ ، اِلَّا بِمَا یَقُوْمُ عَلَیْنَا بِہٖ الْحُجَّۃُ بِاِخْرَاجِہَا مِنْ ذٰلِکَ .وَہٰذَا قَوْلُ أَبِیْ حَنِیْفَۃَ ، وَأَبِیْ یُوْسُفَ ، وَمُحَمَّدٍ رَحْمَۃُ اللّٰہِ عَلَیْہِمْ أَجْمَعِیْنَ .
٦١٥٨: ابو سلمہ نے حضرت ابوہریرہ سے اور انھوں نے جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اسی طرح کی روایت کی ہے۔ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کچلیوں والے درندے کو کھانے کی ممانعت میں ان متواتر روایات سے حجت قائم ہوگئی اب جائز نہیں کہ بجو کو اس سے خارج کیا جاسکے کیونکہ اس کا کچلیوں والا درندہ ہونا تو معروف ہے پس اس کو خارج کرنے کے لیے اسی طرح کی مضبوط دلیل چاہیے یہ امام ابوحنیفہ ‘ ابو یوسف اور محمد رحمہم اللہ کا قول ہے۔ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ مدینہ کی حدود میں بھی شکار کا حکم وہی ہے جو حرم مکہ کا ہے۔ طرح درخت کا بھی کاٹنا درست نہیں۔ اس قول کو امام مالک ‘ شافعی اور احمد رحمہم اللہ نے اختیار کیا ہے۔ دوسرا فریق یہ کہتا ہے مدینہ منورہ کی عظمت اپنے مقام پر ہے مگر اس کی حدود میں شکار اور درختوں کا وہ حکم نہیں جو حرم مکہ کا ہے۔ اس قول کو ائمہ احناف نے اختیار کیا ہے اور ثوری اور ابن مبارک رحمہم اللہ کا قول بھی ہے (العینی والمرقات)
حاصل : جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کچلیوں والے درندے کو کھانے کی ممانعت میں ان متواتر روایات سے حجت قائم ہوگئی اب جائز نہیں کہ بجو کو اس سے خارج کیا جاسکے کیونکہ اس کا کچلیوں والا درندہ ہونا تو معرو ہے پس اس کو خارج کرنے کے لیے اسی طرح کی مضبوط دلیل چاہیے یہ امام ابوحنیفہ ‘ ابو یوسف اور محمد رحمہم اللہ کا قول ہے۔