۶۱۵۹: حَدَّثَنَا فَہْدُ بْنُ سُلَیْمَانَ قَالَ : ثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِیَاثٍ قَالَ : ثَنَا أَبِی قَالَ ثَنَا الْأَعْمَشُ قَالَ : حَدَّثَنِیْ اِبْرَاھِیْمُ التَّیْمِیُّ ، قَالَ حَدَّثَنِیْ أَبِیْ، قَالَ : خَطَبَنَا عَلِیٌّ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ عَلَی مِنْبَرٍ مِنْ آجُر ، وَعَلَیْہِ سَیْفٌ فِیْہِ صَحِیْفَۃٌ مُعَلَّقَۃٌ بِہٖ ، فَقَالَ : وَاللّٰہِ مَا عِنْدَنَا مِنْ کِتَابٍ نَقْرَؤُہُ اِلَّا کِتَابَ اللّٰہِ، وَمَا فِیْ ہٰذِہٖ الصَّحِیْفَۃِ ثُمَّ نَشَرَہَا ، فَاِذَا فِیْہَا الْمَدِیْنَۃُ حَرَامٌ ، مِنْ عَیْرٍ اِلَی ثَوْرٍ .
٦١٥٩: ابراہیم تیمی کہتے ہیں کہ مجھے میرے والد نے بیان کیا کہ ہمیں علی (رض) نے عیدوں کے منبر پر خطبہ دیا اس وقت انھوں نے تلوار پہن رکھی تھی اور اس میں ایک خط لٹک رلا تھا آپ نے فرمایا اللہ کی قسم ہمارے پاس پڑھنے کے لیے کتاب اللہ کے سوا اور کوئی کتاب نہیں اور جو کچھ اس خط میں ہے پھر آپ نے اس کو پھیلا دیا تو اس میں یہ لکھا تھا کہ مدینہ منورہ عیر پہاڑ سے ثور تک حرمت والا ہے۔
تخریج : مسلم فی الحج روایت ٤٦٧‘ والعتق روایت ٢٥‘ مسند احمد ١؍٨١۔
بعض لوگوں کا خیال ہے کہ مدینہ کی حدود میں بھی شکار کا حکم وہی ہے جو حرم مکہ کا ہے۔ اس طرح درخت کا بھی کاٹنا اسی طرح درست نہیں۔ اس قول کو امام مالک ‘ شافعی اور احمد رحمہم اللہ نے اختیار کیا ہے۔
دوسرا فریق یہ کہتا ہے مدینہ منورہ کی عظمت اپنے مقام پر ہے مگر اس کی حدود میں شکار اور درختوں کا وہ حکم نہیں جو حرم مکہ کا ہے۔ اس قول کو ائمہ احناف نے اختیار کیا ہے اور ثوری اور ابن مبارک رحمہم اللہ کا قول بھی ہے (العینی والمرقات)