۶۱۶۰: حَدَّثَنَا اِبْرَاھِیْمُ بْنُ مَرْزُوْقٍ قَالَ : ثَنَا أَبُوْ عَامِرٍ الْعَقَدِیُّ قَالَ : ثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ اِسْمَاعِیْلَ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ أَنَّ سَعْدًا رَکِبَ اِلَی قَصْرِہِ بِالْعَقِیْقِ ، فَوَجَدَ غُلَامًا یَقْطَعُ شَجَرَۃً أَوْ یَحْتَطِبُہُ .قَالَ أَبُوْ جَعْفَرٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ أَظُنُّ فِیْہِ فَأَخَذَ سَلَبَہُ فَلَمَّا رَجَعَ ، أَتَاہُ أَہْلُ الْغُلَامِ ، فَکَلَّمُوْھُ أَنْ یَرُدَّ عَلَیْہِمْ مَا أَخَذَ مِنْ غُلَامِہِمْ .فَقَالَ : مَعَاذَ اللّٰہِ أَنْ أَرُدَّ شَیْئًا نَفَّلَنِیْہِ رَسُوْلُ اللّٰہِ، وَأَبَی أَنْ یَرُدَّہُ اِلَیْہِمْ .
٦١٦٠: عامر بن سعد بیان کرتے ہیں کہ حضرت سعد مقام عقیق میں اپنے محل کی طرف سوار ہو کر تشریف لے جا رہے تھے کہ انھوں نے ایک غلام کو پایا جو درخت یا لکڑیاں کاٹ رہا تھا طحاوی (رح) کہتے ہیں کہ میرا خیال یہ ہے کہ اس کے اندر یہ الفاظ بھی ہیں کہ انھوں نے اس کا سامان لے لیا جب وہ واپس لوٹے تو غلام کے مالک آئے اور انھوں نے گفتگو کی کہ جو کچھ ان کے غلام سے لیا گیا ہے وہ واپس کردیا جائے تو حضرت سعد نے فرمایا معاذاللہ میں اس چیز کو واپس نہیں کرسکتا جو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بطور غنیمت مجھے دی ہے اور اس چیز کو ان کی طرف واپس کرنے سے انکار کردیا۔
تخریج : مسلم فی الحج روایت ٤٦١‘ مسند احمد ١؍١٦٨۔