۶۱۸ : مَا حَدَّثَنَا یُوْنُسُ قَالَ : أَنَا ابْنُ وَہْبٍ قَالَ : أَخْبَرَنِیْ عَمْرٌو ؛ وَسَعِیْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ ؛ وَمَالِکٌ ؛ وَاللَّیْثُ ؛ عَنْ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ ؛ أَنَّہٗ أَخْبَرَہُمْ عَنْ أَبِیْہِ ؛ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا أَنَّ (فَاطِمَۃَ ابْنَۃَ أَبِیْ حُبَیْشٍ جَائَ تْ إِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَکَانَتْ تُسْتَحَاضُ فَقَالَتْ : یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ إِنِّیْ- وَاللّٰہِ - مَا أَطْہَرُ .أَفَأَدَعُ الصَّلَاۃَ أَبَدًا؟ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : إِنَّمَا ذٰلِکَ عِرْقٌ ؛ وَلَیْسَتْ بِالْحَیْضَۃِ ؛ فَإِذَا أَقْبَلَتِ الْحَیْضَۃُ فَاتْرُکِی الصَّلَاۃَ، وَإِذَا ذَہَبَ قَدْرُہَا، فَاغْسِلِیْ عَنْکِ الدَّمَ ثُمَّ صَلِّیْ) .
٦١٨: عروہ نے حضرت عائشہ (رض) سے نقل کیا کہ فاطمہ بنت ابی حبیش جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں آئیں اور ان کو استحاضہ کا مرض تھا عرض کرنے لگیں یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں قسم بخدا پاک ہی نہیں ہوتی کیا میں نماز ہمیشہ کے لیے چھوڑ دوں ؟ تو جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا یہ ایک رگ ہے حیض نہیں جب حیض کے دن شروع ہوں تو نماز چھوڑ دو اور جب اتنے دن ختم ہوجائیں تو غسل کر کے پھر نماز ادا کرو۔