۶۱۹ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ دَاوٗدَ قَالَ : ثَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ دَاوٗدَ قَالَ : ثَنَا عَبْدُ الرَّحْمٰنِ بْنُ أَبِی الزِّنَادِ، عَنْ أَبِیْہِ وَہِشَامٍ، کِلَیْہِمَا عَنْ عُرْوَۃَ، عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا مِثْلَہٗ .فَھٰکَذَا رَوَی الْحُفَّاظُ، ھٰذَا الْحَدِیْثَ عَنْ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ، لَا کَمَا رَوَاہُ أَبُوْ حَنِیْفَۃَ رَحِمَہُ اللّٰہُ تَعَالٰی .فَکَانَ مِنَ الْحُجَّۃِ عَلَیْہِمْ، أَنَّ حَمَّادَ بْنَ سَلَمَۃَ، قَدْ رَوٰی ھٰذَا الْحَدِیْثَ، عَنْ ہِشَامٍ، فَزَادَ فِیْہِ حَرْفًا یَدُلُّ عَلٰی مُوَافَقَتِہٖ لِأَبِیْ حَنِیْفَۃَ رَحِمَہُ اللّٰہُ تَعَالٰی .
٦١٩: ابو الزناد اور ہشام دونوں نے عروہ سے روایت کی اور حضرت عائشہ (رض) سے اسی طرح روایت نقل کی ہے یہ دو نمونے اس بات کے لیے کافی ہیں ابوحنیفہ (رح) کی روایت میں ثم توضئی عند کل صلوۃ کے لفظ زائد اور مدرج ہیں۔ حفاظ روات نے اس کو اس طرح روایت کیا تو یہ روایت ہشام بن عروہ سے ثابت ہوئی نہ جس طرح امام ابوحنیفہ (رح) نے نقل کی ہے ‘ ان کے خلاف دلیل یہ ہے کہ حماد بن سلمہ نے اس روایت کو ہشام سے نقل کیا ہے۔ پس اس نے اس میں ایک حرف زائد کردیا جو کہ امام ابوحنیفہ (رح) کی موافقت پر دلالت کرتی ہے ۔
حل اشکال :
حماد بن سلمہ مشہور حفاظ حدیث سے ہیں انھوں نے یہ روایت ہشام سے اسی اضافہ کے ساتھ نقل کی ہے جو ابوحنیفہ (رح) کی روایت میں ہے۔