hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 6185

.

الطحاوي

6185
Al Tahawi
۶۱۸۳: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِیْ دَاوٗدَ قَالَ : ثَنَا اِبْرَاھِیْمُ بْنُ حَمْزَۃَ الزُّبَیْرِیُّ ، قَالَ ثَنَا عَبْدُ الْعَزِیْزِ بْنُ أَبِیْ حَازِمٍ ، عَنْ کَثِیْرِ بْنِ زَیْدٍ عَنِ الْوَلِیْدِ بْنِ رَبَاحٍ ، عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ اِنَّ اِبْرَاھِیْمَ حَرَّمَ مَکَّۃَ ، وَاِنِّیْ أُحَرِّمُ الْمَدِیْنَۃَ ، بِمِثْلِ مَا حَرَّمَ .قَالَ : وَنَہَی النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَنْ یُعْضَدَ شَجَرُہَا أَوْ یُخْبَطَ ، أَوْ یُؤْخَذَ طَیْرُہَا .قَالَ أَبُوْ جَعْفَرٍ : فَذَہَبَ قَوْمٌ اِلَی تَحْرِیْمِ صَیْدِ الْمَدِیْنَۃِ ، وَتَحْرِیْمِ شَجَرِہَا ، وَجَعَلُوْہَا فِیْ ذٰلِکَ کَمَکَّۃَ فِیْ حُرْمَۃِ صَیْدِہَا وَشَجَرِہَا .وَقَالُوْا : مَنْ فَعَلَ مِنْ ذٰلِکَ شَیْئًا فِیْ حَرَمِ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، حَلَّ سَلَبُہُ لِمَنْ وَجَدَہٗ، یَفْعَلُ ذٰلِکَ ، وَاحْتَجُّوْا فِیْ ذٰلِکَ بِہٰذِہِ الْآثَارِ .وَخَالَفَہُمْ فِیْ ذٰلِکَ آخَرُوْنَ فَقَالُوْا : أَمَّا مَا ذَکَرْتُمُوْھُ مِنْ تَحْرِیْمِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، صَیْدَ الْمَدِیْنَۃِ وَشَجَرَہَا ، فَقَدْ کَانَ فَعَلَ ذٰلِکَ ، لَیْسَ أَنَّہٗ جَعَلَہٗ کَحُرْمَۃِ صَیْدِ مَکَّۃَ ، وَلَا کَحُرْمَۃِ شَجَرِہَا ، وَلٰـکِنَّہٗ أَرَادَ بِذٰلِکَ ، بَقَائَ زِیْنَۃِ الْمَدِیْنَۃِ ، لِیَسْتَطِیْبُوْہَا وَیَأْلَفُوْہَا .وَقَدْ رَأَیْنَا رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَنَعَ مِنْ ہَدْمِ آطَامِ الْمَدِیْنَۃِ ، وَقَالَ اِنَّہَا زِیْنَۃٌ لِلْمَدِیْنَۃِ .
٦١٨٣: ولید بن رباح نے حضرت ابوہریرہ سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا بلاشبہ ابراہیم (علیہ السلام) نے مکہ کو حرم قرار دیا اور میں مدینہ کو اسی طرح حرم قرار دیتا جس طرح انھوں نے مکہ کو حرم قرار دیا اور کہنے لگے جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کے درخت کو کاٹنے اور درختوں کے پتے جھاڑنے یا اس کے پرندوں کو پکڑنے سے منع فرمایا۔ ولید بن رباح نے حضرت ابوہریرہ سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا بلاشبہ ابراہیم (علیہ السلام) نے مکہ کو حرم قرار دیا اور میں مدینہ کو اسی طرح حرم قرار دیتا جس طرح انھوں نے مکہ کو حرم قرار دیا اور کہنے لگے جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کے درخت کو کاٹنے اور درختوں کے پتے جھاڑنے یا اس کے پرندوں کو پکڑنے سے منع فرمایا۔ امام طحاوی (رح) کہتے ہیں : بعض لوگوں کا خیال ہے مدینہ میں بھی شکار حرام ہے اور اس کے درخت کا کاٹنا حرام ہے۔ انھوں نے مدینہ منورہ کو بھی شکار اور درخت کے کاٹنے میں مکہ مکرمہ کی طرح قرار دیا اور انھوں نے کہا جو آدمی حرم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں ان میں سے کوئی کام کرے گا تو جو آدمی اس کو پائے اس پر اس سے چھینا ہوا سامان حلال ہے اور انھوں نے ان آثار کو دلیل بنایا ہے۔ فریق ثانی کا کہنا ہے کہ ان روایات میں جس تحریم اشجار و شکار کا ذکر ہے وہ آپ نے فرمایا۔ مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ اس کی حرمت مکہ کے شکار اور درختوں کی طرح نہ ہوگی۔ بلکہ اس کا مقصد مدینہ کی زینت کا بقاء ہے کہ اس سے الفت و محبت کریں ہم نے دیکھا کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مدینہ کے ٹیلوں کو گرانے سے روکا اور فرمایا یہ مدینہ کی زینت ہیں۔