۶۱۹۱: حَدَّثَنَا فَہْدٌ قَالَ : ثَنَا أَبُو نُعَیْمٍ ، قَالَ : ثَنَا عُمَارَۃُ بْنُ زَاذَانَ ، عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ قَالَ : کَانَ لِی أَخٌ ، فَکَانَ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَسْتَقْبِلُہُ وَیَقُوْلُ : یَا أَبَا عُمَیْرٍ ، مَا فَعَلَ النُّغَیْرُ .قَالَ أَبُوْ جَعْفَرٍ : فَہٰذَا قَدْ کَانَ بِالْمَدِیْنَۃِ ، وَلَوْ کَانَ حُکْمُ صَیْدِہَا کَحُکْمِ صَیْدِ مَکَّۃَ ، اِذًا لَمَا أَطْلَقَ لَہٗ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ حَبْسَ النُّغَیْرِ ، وَلَا اللَّعِبَ بِہٖ ، کَمَا لَا یُطْلَقُ ذٰلِکَ بِمَکَّۃَ .فَقَالَ قَائِلٌ : فَقَدْ یَجُوْزُ أَنْ یَکُوْنَ ہٰذَا کَانَ بِقُبَائَ ، وَذٰلِکَ الْمَوْضِعُ ، غَیْرُ الْمَوْضِعِ الْمُحَرَّمِ ، فَلَا حُجَّۃَ لَکُمْ فِیْ ہٰذَا الْحَدِیْثِ .فَنَظَرْنَا ، ہَلْ نَجِدُ فِیْمَا سِوَیْ ہٰذَا الْحَدِیْثِ مَا یَدُلُّ عَلٰی شَیْئٍ مِنْ حُکْمِ صَیْدِ الْمَدِیْنَۃِ .
٦١٩١: ثابت نے حضرت انس (رض) سے روایت کی ہے کہ میرا ایک چھوٹا بھائی تھا جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس کو سامنے بلاتے اور فرماتے اے ابو عمیر تمہارے بلبل کا کیا حال ہے۔ یہ واقعہ مدینہ منورہ کا ہے اگر مدینہ منورہ کے شکار کا مکہ کے شکار جیسا ہوتا تو جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بلبل کو ضرور آزاد کرواتے۔ اس کو قید کرنے اور اس سے کھیلنے کی اجازت نہیں دیتے جیسا کہ مکہ میں ہوتا ہے۔ اگر کوئی معترض کہے کہ ممکن ہے کہ یہ واقعہ قباء کا ہے اور وہ حرم میں داخل نہیں پس یہ روایت دلیل نہ بنی۔ ان کو جواب میں کہے کہ حضرت ابو طلحہ انصاری کا مکان حرم میں نہیں بلکہ مدینہ منورہ کے اندر تھا پس اعتراض بےجا اور دلیل ثابت ہے۔ ہم غور کرتے ہیں کیا ایسی روایات ملتی ہیں جو مدینہ کے شکار پر دلالت کرتی ہوں ملاحظہ ہو۔