۶۱۹۲: فَاِذَا عَبْدُ الرَّحْمٰنِ بْنُ عَمْرٍو الدِّمَشْقِیُّ ، وَفَہْدُ بْنُ سُلَیْمَانَ ، قَدْ حَدَّثَانَا ، قَالَا : ثَنَا أَبُو نُعَیْمٍ ، قَالَ : ثَنَا یُوْنُسُ بْنُ أَبِیْ اِسْحَاقَ ، عَنْ مُجَاہِدٍ قَالَ : قَالَتْ عَائِشَۃُ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا ، کَانَ لِآلِ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَحْشٌ ، فَاِذَا خَرَجَ ، لَعِبَ وَاشْتَدَّ ، وَأَقْبَلَ وَأَدْبَرَ ، فَاِذَا أَحَسَّ بِرَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَنَّہٗ قَدْ دَخَلَ ، رَبَضَ فَلَمْ یَتَرَمْرَم ، کَرَاہِیَۃَ أَنْ یُؤْذِیَہُ .فَہٰذَا بِالْمَدِیْنَۃِ ، فِیْ مَوْضِعٍ قَدْ دَخَلَ فِیْمَا حَرُمَ مِنْہَا ، وَقَدْ کَانُوْا یَأْوُوْنَ فِیْہِ الْوَحْشَ ، وَیَتَّخِذُوْنَہَا ، وَیُغْلِقُوْنَ دُوْنَہَا الْأَبْوَابَ .فَقَدْ دَلَّ ہٰذَا أَیْضًا ، عَلٰی أَنَّ حُکْمَ الْمَدِیْنَۃِ فِیْ ذٰلِکَ ، خِلَافُ حُکْمِ مَکَّۃَ .
٦١٩٢: مجاہد کہتے ہیں کہ حضرت عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ آل رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ایک جنگلی جانور تھا جب آپ باہر تشریف لے جاتے تو وہ کھیلتا اور دوڑتا تھا آگے کی طرف تو دوڑتا پیچھے لوٹتا جب وہ آپ کی آمد محسوس کرتا تو گھٹنوں کے بل بیٹھتا اور بالکل خاموشی اختیار کرتا تاکہ کہیں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تکلیف نہ ہو۔ یہ حرم میں کے اندر داخل حصہ ہے اور اس میں وحشی جانور کو اپنے ہاں رکھتے اور دروازوں کے اندر اس کو بند کرتے ہیں اس سے یہ بات ثابت ہوئی حرم مدینہ کا حکم حرم مکہ سے مختلف ہے۔
تخریج : مسند احمد ٦؍١١٢‘ ١٥٠‘ ٢٠٩۔
حاصل : یہ حرم میں کے اندر داخل حصہ ہے اور اس میں وحشی جانور کو اپنے ہاں رکھتے اور دروازوں کے اندر اس کو بند کرتے ہیں اس سے یہ بات ثابت ہوئی حرم مدینہ کا حکم حرم مکہ سے مختلف ہے۔