hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 6207

.

الطحاوي

6207
Al Tahawi
۶۲۰۵ : حَدَّثَنَا ، قَالَ : ثَنَا أَبُو الْوَلِیْدِ ، قَالَ : ثَنَا أَبُوْ عَقِیْلٍ بَشِیْرُ بْنُ عُقْبَۃَ ، قَالَ : ثَنَا أَبُو نَضْرَۃَ ، عَنْ أَبِیْ سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ، أَنَّ أَعْرَابِیًّا سَأَلَ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : اِنِّیْ فِیْ حَائِطٍ مَضَبَّۃٍ ، وَاِنَّہٗ طَعَامُ أَہْلِنَا ، فَسَکَتَ .فَقُلْنَا لَہٗ : عَاوِدْہُ فَعَاوَدَہٗ، فَسَکَتَ ، ثُمَّ قُلْنَا لَہٗ : عَاوِدْہٗ، فَعَاوَدَہُ فَقَالَ اِنَّ اللّٰہَ سَخَطَ عَلٰی سَبْطٍ مِنْ بَنِیْ اِسْرَائِیْلَ فَمَسَخَہُمْ دَوَابَّ یَدِبُّوْنَ عَلَی الْأَرْضِ ، فَمَا أَظُنُّہُمْ اِلَّا ہٰؤُلَائِ ، وَلَسْت آکِلَہَا ، وَلَا أُحَرِّمُہَا .قَالَ أَبُوْ جَعْفَرٍ : فَفِیْ ہٰذَا الْحَدِیْثِ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لَمْ یُحَرِّمْ الضِّبَابَ ، مَعَ خَوْفِہِ أَنْ تَکُوْنَ مِنَ الْمَمْسُوْخِ .ثُمَّ نَظَرْنَا ، ہَلْ رُوِیَ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، مَا یَنْفِیْ أَنْ تَکُوْنَ الضِّبَابُ مَمْسُوْخًا ؟ .فَاِذَا أَبُوْبَکْرَۃَ قَدْ
٦٢٠٥: ابو نصرہ نے ابو سعید خدری (رض) سے روایت کی ہے کہ ایک دیہاتی جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پوچھا کہ میرے باغ میں بہت سے گوہ ہیں اور وہ ہمارے گھر والوں کی خوراک بھی ہیں آپ نے اس پر خاموشی اختیار فرمائی ہم نے اسے کہا یہ بات دوبارہ دہراؤ اس نے دوبارہ دہرائی آپ پھر بھی خاموش رہے پھر ہم نے اسے کہا دوبارہ دہراؤ اس نے دوبارہ دہرایا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کے ایک خاندان پر ناراضگی فرمائی ان کو مسخ کر کے زمین پر چلنے والے جاندار بنادیا میرے گمان میں یہ وہی ہیں میں نہ ان کو کھانے والا ہوں اور نہ ہی ان کو حرام قرار دینے والا ہوں۔
تخریج : مسلم فی الصید روایت ٥١۔
امام طحاوی (رح) کہتے ہیں : کہ یہ حدیث بتارہی ہے جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے گوہ کو حرام قرار نہیں دیا اس بات کے باوجود کہ مسخ شدہ امت کا اس میں خطرہ تھا اب ہم اس بات پر غور کرنا چاہتے ہیں کہ جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کوئی ایسی چیز منقول ہے جو اس کے مسخ شدہ نہ ہونے کی نفی کرے۔