۶۲۰۹ : حَدَّثَنَا فَہْدٌ قَالَ : ثَنَا الْحَسَنُ بْنُ الرَّبِیْعِ ، قَالَ : ثَنَا ابْنُ اِدْرِیْسَ ، عَنْ لَیْثٍ ، عَنْ عَلْقَمَۃَ بْنِ مَرْثَدٍ ، عَنِ الْمَعْرُوْرِ بْنِ سُوَیْدٍ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا ، عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، مِثْلَہٗ۔فَبَیَّنَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِیْ ہٰذَا الْحَدِیْثِ أَنَّ الْمُسُوْخَ ، لَا یَکُوْنُ لَہَا نَسْلٌ وَلَا عَقِبٌ ، فَعَلِمْنَا بِذٰلِکَ أَنَّ الضَّبَّ لَوْ کَانَ مِمَّا مُسِخَ ، لَمْ یَبْقَ ، فَانْتَفَی بِذٰلِکَ أَنْ یَکُوْنَ الضَّبُّ بِمَکْرُوْہٍ ، مِنْ قِبَلِ أَنَّہٗ مُسِخَ أَوْ قِبَلَ مَا جَازَ أَنْ یَکُوْنَ مَسْخًا .ثُمَّ نَظَرْنَا فِیْمَا رُوِیَ فِیْہِ خِلَافُ مَا ذَکَرْنَا ، ہَلْ نَجِدُ فِیْ شَیْئٍ مِنْ ذٰلِکَ ، مَا یَدُلُّنَا عَلَی اِبَاحَۃِ أَکْلِہٖ ، أَوْ عَلَی الْمَنْعِ مِنْ ذٰلِکَ ؟
٦٢٠٩: معرور بن سوید نے حضرت امّ سلمہ (رض) سے انھوں نے جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اسی طرح کی روایت نقل کی ہے۔ ان روایات میں جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے واضح فرما دیا کہ ممسوخ شدہ اقوام کی نسل اور پیچھے رہنے والی اولاد نہیں ہوتی۔ اس سے یہ معلوم ہوگیا کہ اگر یہ مسخ اقوام سے ہوتی تو باقی نہ وہری پس اس سے اس کی کراہت کی بھی نفی ہوگئی جو کہ اس کے مسخ شدہ ہونے یا امکان ممسوخ ہونے کی وجہ سے پیدا ہوتی تھی۔
اس کے کھانے کی اباحت یا ممانعت پر دلالت کرنے والی روایات :