۶۲۱۸ : حَدَّثَنَا اِبْرَاھِیْمُ بْنُ مَرْزُوْقٍ ، قَالَ : ثَنَا وَہْبٌ وَعَبْدُ الصَّمَدِ ، قَالَا : ثَنَا شُعْبَۃُ ، عَنْ تَوْبَۃَ الْعَنْبَرِیِّ ، قَالَ : سَمِعْت الشَّعْبِیَّ یَقُوْلُ : رَأَیْتُ فُلَانًا حِیْنَ یَرْوِیْ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، لَقَدْ جَالَسْتُ ابْنَ عُمَرَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا ، فَمَا سَمِعْتُہٗ یُحَدِّثُ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، غَیْرَ أَنَّہٗ قَالَ : کَانَ أُنَاسٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَأْکُلُوْنَ ضَبًّا ، فَنَادَتْہُمْ امْرَأَۃٌ مِنْ أَزْوَاجِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اِنَّہَا ضَبٌّ .فَقَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کُلُوْھُ ، لَیْسَ مِنْ طَعَامِی وَفِیْ حَدِیْثِ وَہْبٍ فَاِنَّہٗ حَلَالٌ .قَالَ أَبُوْ جَعْفَرٍ : فَفِیْ ہٰذَا الْحَدِیْثِ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَ أَنَّہٗ حَلَالٌ ، وَأَنَّہٗ تَرَکَہٗ، لِأَنَّہٗ لَمْ یَکُنْ مِنْ طَعَامِہٖ .وَقَدْ رُوِیَ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ أَیْضًا أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لَمْ یُحَرِّمْہُ .
٦٢١٨: شعبی کہتے تھے کہ میں نے فلاں کو دیکھا جبکہ وہ جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے روایت کرتے تھے میں ابن عمر (رض) کی مجلس میں بھی بیٹھا تو میں نے ان کو جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف کوئی بات منسوب کر کے بیان کرتے نہیں سنا۔ البتہ انھوں نے یہ فرمایا کہ کچھ لوگ اصحاب نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں سے گوہ کھا رہے تھے تو ان کو ازواج مطہرات میں سے ایک نے آواز دے کر کہا یہ گوہ ہے تو جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اس کو کھاؤ یہ میرا کھانا نہیں اور وہب کی روایت میں فانہ حلال کے الفاظ بھی ہیں۔ امام طحاوی (رح) کہتے ہیں : اس روایت میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خبر دی کہ یہ حلال ہے اور آپ نے اس کو اس لیے نہیں کھایا کہ یہ آپ معمول میں کھائی جانے والی اشیاء سے نہیں ہے۔
امام طحاوی (رح) کہتے ہیں : اس روایت میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خبر دی کہ یہ حلال ہے اور آپ نے اس کو اس لیے نہیں کھایا کہ یہ آپ معمول میں کھائی جانے والی اشیاء سے نہیں ہے۔
حضرت عمر (رض) سے عدم حرمت کی روایت :