۶۲۱۹ : حَدَّثَنَا رَبِیْعٌ الْمُؤَذِّنُ ، قَالَ : ثَنَا أَسَدٌ ، قَالَ : ثَنَا ابْنُ لَہِیْعَۃَ ، عَنْ أَبِی الزُّبَیْرِ ، قَالَ : سَأَلْتُ جَابِرًا رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ، عَنْ الضَّبِّ .فَقَالَ : أُتِیَ بِہٖ رَسُوْلَ - اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ لَا أَطْعَمُہُ .وَقَالَ عُمَرُ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ : اِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لَمْ یُحَرِّمْہٗ، وَاِنَّ اللّٰہَ لَیَنْفَعُ بِہٖ غَیْرَ وَاحِدٍ ، وَطَعَامُ عَامَّۃِ الرُّعَاۃِ وَلَوْ کَانَ عِنْدِی لَأَکَلْتُہُ .وَقَدْ کَرِہَ قَوْمٌ أَکْلَ الضَّبِّ ، مِنْہُمْ أَبُوْ حَنِیْفَۃَ ، وَأَبُوْ یُوْسُفَ ، وَمُحَمَّدٌ رَحْمَۃُ اللّٰہِ عَلَیْہِمْ أَجْمَعِیْنَ .وَاحْتَجَّ لَہُمْ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ فِیْ ذٰلِکَ ،
٦٢١٩: ابوالزبیر کہتے ہیں کہ میں نے حضرت جابر (رض) سے گوہ کے متعلق دریافت کیا تو آپ نے فرمایا کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں گوہ پیش کی گئی تو آپ نے فرمایا میں اسے نہ کھاؤں گا۔ حضرت عمر (رض) نے کہا کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کو حرام قرار نہیں دیا اور اللہ تعالیٰ بہت سے لوگوں کو اس سے فائدہ دیتا ہے یہ عام چرواہوں کا کھانا ہے اگر یہ میرے پاس ہوتا تو میں کھا لیتا۔ امام طحاوی (رح) کہتے ہیں : علماء کی ایک جماعت نے گوہ کھانے کو مکروہ قرار دیا ہے ان میں امام ابوحنیفہ ‘ ابو یوسف و محمد رحمہم اللہ بھی ہیں۔ ان کی دلیل : امام محمد (رح) نے اس طرح پیش کی ہے۔