hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 6224

.

الطحاوي

6224
Al Tahawi
۶۲۲۲ : وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خُزَیْمَۃَ قَالَ : ثَنَا مُسْلِمُ بْنُ اِبْرَاھِیْمَ ، قَالُوْا : ثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ ، قَالَ ثَنَا حَمَّادٌ ، وَہُوَ ابْنُ أَبِیْ سُلَیْمَانَ ، عَنْ اِبْرَاھِیْمَ ، عَنِ الْأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أُہْدِیَ لَہٗ ضَبٌّ فَلَمْ یَأْکُلْہُ .فَقَامَ عَلَیْہِمْ سَائِلٌ فَأَرَادَتْ عَائِشَۃُ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا أَنْ تُعْطِیَہُ فَقَالَ لَہَا النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَتُعْطِیْنَہُ مَا لَا تَأْکُلِیْنَ ؟ .قَالَ مُحَمَّدٌ رَحِمَہُ اللّٰہُ : فَقَدْ دَلَّ ذٰلِکَ عَلٰی أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کَرِہَ لِنَفْسِہِ وَلِغَیْرِہٖ، أَکْلَ الضَّبِّ ، قَالَ : فَبِذٰلِکَ نَأْخُذُ .قِیْلَ لَہٗ : مَا فِیْ ہٰذَا دَلِیْلٌ عَلٰی مَا ذَکَرْت .قَدْ یَجُوْزُ أَنْ یَکُوْنَ کَرِہَ لَہَا أَنْ تُطْعِمَہُ السَّائِلَ ، لِأَنَّہَا اِنَّمَا فَعَلَتْ ذٰلِکَ مِنْ أَجْلِ أَنَّہَا عَافَتْہٗ، وَلَوْلَا أَنَّہَا عَافَتْہٗ، لَمَا أَطْعَمَتْہُ اِیَّاہٗ، وَکَانَ مَا تُطْعِمُہُ السَّائِلَ ، فَاِنَّمَا ہُوَ لِلّٰہِ تَعَالٰی .فَأَرَادَ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، أَنْ لَا یَکُوْنَ مَا یُتَقَرَّبُ بِہٖ اِلَی اللّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ اِلَّا مِنْ خَیْرِ الطَّعَامِ ، کَمَا قَدْ نَہَی أَنْ یُتَصَدَّقَ بِالْبُسْرِ الرَّدِیئِ ، وَالتَّمْرِ الرَّدِیئِ .فَمِمَّا رُوِیَ عَنْہُ فِیْ ذٰلِکَ ،
٦٢٣٢: ابراہیم نے انھوں نے اسود سے انھوں نے حضرت عائشہ (رض) سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں گوہ کو بطور ہدیہ پیش کیا گیا تو آپ نے اس کو نہ کھایا تو اسی وقت ایک سائل آگیا حضرت عائشہ (رض) اس کو دینے کا ارادہ کیا تو آپ نے فرمایا کیا تم اس کو وہ چیز دینا چاہتی ہو جو خود نہیں کھاتی ہو۔
امام محمد (رح) فرماتے ہیں کہ اس روایت سے یہ دلالت مل گئی کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کو اپنے اور دوسروں کے لیے ناپسند کیا ہے اور ہم اسی کو اختیار کرتے ہیں۔ امام طحاوی (رح) فرماتے ہیں کہ اس روایت میں آپ کے مؤقف کی دلیل نہیں ہے اس لیے کہ یہ ممکن ہے کہ آپ نے سائل کو کھلانا ناپسند کیا ہو۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ حضرت عائشہ (رض) نے اس کو ناپسند کیا تھا اگر وہ اس کو ناپسند نہ کرتیں تو وہ اسے اس کو کھانے کے لیے نہ دیتیں حالانکہ سائل جو جو وہ کھلانا چاہتی تھیں وہ محض اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے تھا۔
پس جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارادہ فرمایا کہ جو کھانا تقرب الی اللہ کے لیے دیا جائے وہ بہترین کھانا ہو۔ جیسا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ردی بسر (تازہ کھجور) اور ردی خشک کھجور کو صدقہ کرنے سے منع فرمایا۔ روایت یہ ہے۔