۶۲۲۳ : مَا حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِیْ دَاوٗدَ ، قَالَ : ثَنَا سَعِیْدُ بْنُ سُلَیْمَانَ الْوَاسِطِیُّ ، قَالَ : ثَنَا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَامّ، عَنْ سُفْیَانَ بْنِ حُسَیْنٍ ، عَنِ الزُّہْرِیِّ ، عَنْ أَبِیْ أُمَامَۃَ بْنِ سَہْلِ بْنِ حُنَیْفٍ ، عَنْ أَبِیْہَ قَالَ : أَمَرَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِالصَّدَقَۃِ فَجَائَ رَجُلٌ بِکَبَّاسٍ مِنْ ہٰذِہِ النَّخْلِ قَالَ سُفْیَانُ : یَعْنِی الشِّیْصَ ، وَکَانَ لَا یَجِیْئُ أَحَدٌ بِشَیْئٍ اِلَّا نُسِبَ اِلَی الَّذِیْ جَائَ بِہٖ فَنَزَلَتْ وَلَا تَیَمَّمُوْا الْخَبِیْثَ مِنْہُ تُنْفِقُوْنَ . وَنَہٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَنِ الْجُعْرُوْرِ وَلَوْنِ الْحُبَیْقِ أَوْ یُؤْخَذَا فِی الصَّدَقَۃِ قَالَ الزُّہْرِیُّ : لَوْنَانِ مِنْ تَمْرِ الْمَدِیْنَۃِ .
٦٢٢٣: ابو امامہ بن سہل بن حنیف نے اپنے والد سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے صدقہ کا حکم فرمایا تو ایک آدمی اس کھجور کے خوشے لایا۔ سفیان کہتے یعنی ردی کھجور کے خوشے اور جو بھی کوئی چیز لاتا تھا تو وہ اسی کی طرف منسوب ہوتی تھی۔ پس یہ آیت نازل ہوئی ” ولا تیمموا الخبیث منہ تنفقون “ (البقرہ ٢٦٧) اور جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے معرور اور لون الحبیق کھجور صدقہ میں لینے کی ممانعت فرمائی۔ یہ دونوں قسم مدینہ منورہ کی کھجوریں ہیں۔