۶۲۲۵ : حَدَّثَنَا أَبُوْبَکْرَۃَ قَالَ : ثَنَا مُؤَمَّلٌ ، قَالَ : ثَنَا سُفْیَانُ ، عَنْ السُّدِّیِّ ، عَنْ أَبِیْ مَالِکٍ ، عَنِ الْبَرَائِ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ، قَالَ : کَانُوْا یَجِیْئُوْنَ فِی الصَّدَقَۃِ بِأَرْدَأِ تَمْرِہِمْ ، وَأَرْدَأِ طَعَامِہِمْ ، فَنَزَلَتْ یَا أَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُوْا أَنْفِقُوْا مِنْ طَیِّبَاتِ مَا کَسَبْتُمْ وَمِمَّا أَخْرَجْنَا لَکُمْ مِنَ الْأَرْضِ وَلَا تَیَمَّمُوْا الْخَبِیْثَ مِنْہُ تُنْفِقُوْنَ وَلَسْتُمْ بِآخِذِیْہِ اِلَّا أَنْ تُغْمِضُوْا فِیْہِ .قَالَ : لَوْ کَانَ لَکُمْ فَأَعْطَاکُمْ ، لَمْ تَأْخُذُوْھُ اِلَّا وَأَنْتُمْ تَرَوْنَ أَنَّہٗ قَدْ نَقَصَکُمْ مِنْ حَقِّکُمْ .
٦٢٢٥: ابو مالک نے حضرت برائ (رض) سے روایت کی ہے کہ وہ لوگ صدقہ میں نہایت ردی کھجور لاتے تھے اور سب سے ردی قسم کا کھانالاتے۔ تو یہ آیت اتری ” یا ایہا الذین امنوا انفقوا من طیبات “ (البقرہ۔ ٢٦٧) ارشاد فرمایا کہ اگر وہ تمہارے لیے ہو اور تمہیں دی جائے تو تم اس کو نہیں لو گے مگر اسی صورت میں کہ تمہارا خیال یہ ہوگا کہ اس نے تمہارے حق میں کمی کی ہے۔