۶۲۲۷ : حَدَّثَنَا یَزِیْدُ بْنُ سِنَانٍ قَالَ : ثَنَا أَبُوْبَکْرٍ الْحَنَفِیُّ ، قَالَ : ثَنَا عَبْدُ الْحَمِیدِ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِیْ صَالِحُ بْنُ أَبِیْ عَرِیْبٍ ، عَنْ کَثِیْرِ بْنِ مُرَّۃَ الْحَضْرَمِیِّ ، عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِکٍ الْأَشْجَعِیِّ ، عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، مِثْلَہٗ۔فَہٰذَا الْمَعْنَی ، الَّذِیْ کَرِہَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لِعَائِشَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا الصَّدَقَۃَ بِالضَّبِّ ، لَا لِأَنَّ أَکْلَہٗ حَرَامٌ .وَقَدْ رُوِیَ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فِیْ اِبَاحَۃِ أَکْلِہِ أَیْضًا ، مَا
٦٢٢٧: کثیرہ بن مرہ حضرمی نے عوف بن مالک اشجعی (رض) سے انھوں نے جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اسی طرح کی روایت نقل کی ہے۔ یہی وہ مطلب ہے جس کی وجہ سے جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت عائشہ (رض) کے لیے گوہ کے صدقے کو ناپسند کیا اس لیے نہیں کہ اس کا کھانا حرام ہے اس کے مباح کے متعلق روایت یہ ہے۔