۶۲۳ : حَدَّثَنَا أَبُوْ بَکْرَۃَ قَالَ : ثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ بَکْرٍ قَالَ : ثَنَا حُمَیْدٌ، عَنْ أَنَسٍ قَالَ : (قَدِمَ نَاسٌ مِنْ عُرَیْنَۃَ عَلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ الْمَدِیْنَۃَ، فَاجْتَوَوْہَا .فَقَالَ : لَوْ خَرَجْتُمْ إِلٰی ذَوْدٍ لَنَا، فَشَرِبْتُمْ مِنْ أَلْبَانِہَا) .قَالَ : وَذَکَرَ قَتَادَۃُ أَنَّہٗ قَدْ حَفِظَ عَنْہُ، أَبْوَالَہَا .
٦٢٣: حمید نے انس (رض) سے نقل کیا کہ عرینہ کے کچھ لوگ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں مدینہ آئے ان کو وہاں کی آب و ہوا موافق نہ آئی۔ آپ نے فرمایا فلاں جگہ ہمارے اونٹ ہیں (تم وہاں چلے جاؤ) اور ان کے دودھ کو استعمال کرو قتادہ کہتے ہیں میں نے اپنے استاذ سے ابوال کا لفظ یاد کیا ہے۔
اللغات : اجتوٰی۔ آب و ہوا کا ناموافق ہونا۔ ابوال جمع بول پیشاب۔
تخریج : بخاری تفسیر المائدہ باب ٥‘ مسلم فی القسامہ نمبر ٩۔
نمبر ١: غیر ماکول اللحم اور انسانی پیشاب بالاتفاق ناپاک و نجس ہیں ماکول اللحم کے متعلق اختلاف ہے۔
فریق اوّل : اس میں امام محمد ‘ احمد ‘ مالک ‘ نخعی (رح) وغیرہ علماء اس کو پاک قرار دیتے ہیں۔
فریق دوم : امام ابوحنیفہ ‘ ابو یوسف ‘ شافعی (رح) ان کو نجس مانتے ہیں۔
نمبر ٢: اسی طرح جان کے خطرہ کے وقت حرام سے تداوی بالاتفاق جائز ہے اگر خطرہ جان نہ ہو تو اس میں نمبر ١: امام ابوحنیفہ ‘ محمد ‘ شافعی (رح) کے ہاں مطلقاً ناجائز ہے۔
نمبر ٣: امام مالک و ابو یوسف طحاوی (رح) کے نزدیک ضرورت میں درست ہے۔