۶۲۴ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ خُشَیْشٍ قَالَ : ثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ مَسْلَمَۃَ بْنِ قَعْنَبٍ قَالَ : ثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ، عَنْ ثَابِتٍ وَقَتَادَۃَ وَحُمَیْدٍ، عَنْ أَنَسٍ، عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مِثْلَہٗ وَقَالَ: (مِنْ أَلْبَانِہَا وَأَبْوَالِہَا) .فَذَہَبَ قَوْمٌ إِلٰی أَنَّ بَوْلَ مَا یُؤْکَلُ لَحْمُہٗ طَاہِرٌ، وَأَنَّ حُکْمَ ذٰلِکَ، کَحُکْمِ لَحْمِہٖ .وَمِمَّنْ ذَہَبَ إِلٰی ذٰلِکَ، مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ .وَقَالُوْا : لَمَّا جَعَلَ ذٰلِکَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ دَوَائً لِمَا بِہِمْ، ثَبَتَ أَنَّہٗ حَلَالٌ، لِأَنَّہٗ لَوْ کَانَ حَرَامًا، لَمْ یُدَاوِہِمْ بِہٖ، لِأَنَّہٗ دَائٌ لَیْسَ بِشِفَائٍ، کَمَا قَالَ فِیْ حَدِیْثِ عَلْقَمَۃَ بْنِ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ .
٦٢٤: ثابت و قتادہ وحمید نے انس (رض) سے انھوں نے جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اسی طرح کی روایت نقل کی ہے اور من البانھا وابوالھا کے دونوں لفظ لائے ہیں۔ بعض علماء کا یہ مذہب ہے کہ جن جانوروں کا گوشت کھایا جاتا ہے ان کا پیشاب پاک ہے اور اس کا حکم ان کے گوشت والا ہے یہ امام محمد بن الحسن کا قول ہے۔ ان کی دلیل یہ ہے کہ جب جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کی دوائی کے طور پر اس کو تجویز فرمایا تو اس سے اس کا حلال ہونا ثابت ہوگیا کیونکہ اگر یہ حرام ہوتا تو آپ ان کے علاج کے لیے تجویز نہ فرماتے کیونکہ حرام تو بیماری ہے ‘ شفاء نہیں۔ جیسے علقمہ بن وائل کی روایت میں صاف وارد ہے۔
حاصل روایات :
امام محمد (رح) و دیگر علماء کہتے ہیں ان روایات میں جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو جب ابوال پینے کا حکم دیا تو اس سے اس کا حلال ہونا ثابت ہوا اور اگر یہ حلال نہ ہوتا تو ان کو تداوی کی اجازت نہ دی جاتی کیونکہ حرام میں شفاء نہیں بلکہ وہ خود بیماری ہے پس ثابت ہوا کہ پیشاب ماکول اللحم پاک ہے تبھی استعمال کا حکم دیا ورنہ تو حرام سے تداوی کی کسی صورت اجازت نہیں اس کی دلیل یہ روایات ہیں۔