hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 6234

.

الطحاوي

6234
Al Tahawi
۶۲۳۲ : حَدَّثَنَا فَہْدٌ ، قَالَ : ثَنَا أَبُو نُعَیْمٍ ، قَالَ : ثَنَا مِسْعَرُ بْنُ کِدَامٍ ، عَنْ عُبَیْدِ بْنِ حَسَنٍ ، عَنِ ابْنِ مَعْقِلٍ ، عَنْ رَجُلَیْنِ مِنْ مُزَیْنَۃَ ، أَحَدُہُمَا عَنِ الْآخَرِ عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ عُمَرَ بْنِ عُوَیْمٍ ، وَالْآخَرُ ، غَالِبُ بْنُ الْأَبْجَرِ .قَالَ : مِسْعَرٌ : أَرَی غَالِبًا الَّذِیْ سَأَلَ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ، اِنَّہٗ لَمْ یَبْقَ مِنْ مَالِیْ شَیْئٌ أَسْتَطِیْعُ أَنْ أُطْعِمَ مِنْہُ أَہْلِیْ غَیْرَ حُمُرٍ لِی أَوْ حُمُرَاتٍ لِی .قَالَ فَأَطْعِمْ أَہْلَک مِنْ سَمِیْنِ مَالِکِ فَاِنَّمَا قَذِرْتُ لَکُمْ جَوَّالَ الْقَرْیَۃِ .
٦٢٣٢: ابن معقل مزینہ قبیلہ کے دو آدمیوں سے جن میں سے ایک کا نام عبداللہ بن عمر بن لیوم اور دوسرے کا نام غالب بن بجر ہے وہ دونوں ایک دوسرے سے روایت کرتے ہیں مسعر راوی کہتے ہیں میرے خیال میں غالب نے جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سوال کیا یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میرے مال میں سے کوئی چیز بھی باقی نہیں رہی جس سے میں اپنے گھر والوں کو کھلا سکوں فقط میرے چند گھریلو گدھے اور گدھیاں باقی ہیں آپ نے فرمایا اپنے اہل کو اپنے مال میں سے موٹا مال کھلاؤ۔ میں تمہارے لیے شہر کے گندگی خور جانور ناپسند کرتا ہوں۔
بعض لوگوں نے گھریلو گدھوں کے گوشت کو درست قرار دیا۔ اس قول کی نسبت عکرمہ و ابو وائل کی طرف کی گئی ہے۔
( المغنی ج ٨‘ ص ٥٨٦)
دوسرے فریق کا قول یہ ہے کہ گھریلو گدھوں کا گوشت مکروہ تحریمی ہے۔ یہی قول ائمہ احناف امام ابوحنیفہ ‘ ابویوسف ‘ محمد رحمہم اللہ کا ہے۔ تمام علماء مسلمین کا ابن عبدالبر (رح) سے اجماع نقل کیا ہے۔ کذا فی المغنی ج ٨۔