۶۲۶۷: حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ مَعْبَدٍ قَالَ : ثَنَا شَبَابَۃُ بْنُ سَوَّارٍ ، قَالَ : ثَنَا أَبُو زَیْدٍ ، عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ الْعَلَائِ ، قَالَ : ثَنَا مُسْلِمُ بْنُ مِشْکَمٍ ، کَاتِبُ أَبِی الدَّرْدَائِ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ، قَالَ : سَمِعْت أَبَا ثَعْلَبَۃَ الْخُشَنِیَّ .یَقُوْلُ : أَتَیْتُ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ :یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ، حَدِّثْنِیْ مَا یَحِلُّ مِمَّا یَحْرُمُ عَلَیَّ .فَقَالَ لَا تَأْکُلِ الْحِمَارَ الْأَہْلِیَّ ، وَلَا کُلَّ ذِیْ نَابٍ مِنْ السِّبَاعِ .فَکَانَ کَلَامُ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِیْ ہٰذَا الْحَدِیْثِ ، جَوَابًا لِسُؤَالِ أَبِیْ ثَعْلَبَۃَ اِیَّاہٗ، عَمَّا یَحِلُّ لَہٗ، مِمَّا یَحْرُمُ عَلَیْہِ .فَدَلَّ ذٰلِکَ عَلٰی نَہْیِہِ عَنْ أَکْلِ لُحُوْمِ الْحُمُرِ الْأَہْلِیَّۃِ ، لَا لِعِلَّۃٍ تَکُوْنُ فِیْ بَعْضِہَا دُوْنَ بَعْضٍ ، مِنْ أَکْلِ الْعَذِرَۃِ وَمَا أَشْبَہُمَا ، وَلٰـکِنْ لَہَا فِیْ أَنْفُسِہَا .وَقَدْ جَعَلَہَا صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِیْ نَہْیِہِ عَنْہَا ، کَذِی النَّابِ مِنِ السِّبَاعِ .فَکَمَا کَانَ ذُو نَابٍ مَنْہِیًّا عَنْہُ لَا لِعِلَّۃٍ ، کَانَ کَذٰلِکَ الْحُمُرُ الْأَہْلِیَّۃُ ، مَنْہِیًّا عَنْہَا ، لَا لِعِلَّۃٍ .وَقَدْ قَالَ قَوْمٌ : اِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اِنَّمَا نَہٰی عَنْہَا ، لِأَنَّہَا کَانَتْ نُہْبَۃً .وَرَوَوْا فِیْ ذٰلِکَ ،
٦٢٦٧: حضرت ابو درداء کے کاتب مسلم بن مشکم کہتے ہیں کہ میں نے ابو ثعلبہ خشنی کو فرماتے سنا میں حضور کی خدمت میں آیا میں نے کہا یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مجھے بتلایئے کہ میرے لیے کیا حلال ہے اور کون سی چیزیں حرام ہیں آپ نے فرمایا گھریلو گدھوں کو مت کھاؤ اور نہ ہی کچلیوں والے درندوں کو۔ پس اس روایت میں جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا کلام ابو ثعلبہ کے اس سوال کا جواب ہے کہ میرے لیے کیا حلال و حرام ہے (تو آپ نے ان دو حرام چیزوں کا بیان فرمایا) پس اس سے یہ ثابت ہوگیا کہ گھریلو گدھوں کے گوشت کی ممانعت سواری کی کمی یا گندگی کا کھانا نہیں بلکہ ذاتی ممانعت ہے اس کو آپ نے کچلیوں والے درندے کی طرح قرار دیا۔ جس طرح اس کی ممانعت ذاتی ہے کسی علت پر موقوف نہیں۔ یہی حکم اس کا ہے۔ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس لیے منع فرمایا کہ یہ لوٹ کے گدھے تھے انھوں نے اس روایت کو دلیل بنایا۔