۶۲۶۸: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِیْ دَاوٗدَ ، قَالَ : ثَنَا عَمْرُو بْنُ مَرْزُوْقٍ ، قَالَ : ثَنَا حَرْبُ بْنُ شَدَّادٍ ، عَنْ یَحْیَی بْنِ أَبِیْ کَثِیْرٍ ، عَنِ النَّحَّازِ الْحَنَفِیِّ ، عَنْ سِنَانِ بْنِ سَلَمَۃَ ، عَنْ أَبِیْہِ‘ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَرَّ یَوْمَ خَیْبَرَ بِقُدُوْرٍ فِیْہَا لَحْمُ حُمُرِ النَّاسِ ، فَأَمَرَ بِہَا فَأُکْفِئَتْ .فَکَانَ مِنَ الْحُجَّۃِ عَلَیْہِمْ فِیْ ذٰلِکَ أَنَّ قَوْلَہٗ حُمُرِ النَّاسِ یَحْتَمِلُ أَنْ یَکُوْنَ انْتَہَبُوْہَا مِنَ النَّاسِ ، وَیَحْتَمِلُ أَنْ تَکُوْنَ نُسِبَتْ اِلَی النَّاسِ ، لِأَنَّہُمْ یَرْکَبُوْنَہَا ، فَیَکُوْنُ النَّہْیُ وَقَعَ عَلَیْہَا ، لِأَنَّہَا أَہْلِیَّۃٌ ، لَا لِغَیْرِ ذٰلِکَ .قَالُوْا : فَاِنَّہٗ قَدْ رُوِیَ فِیْ ذٰلِکَ ، مَا یَدُلُّ عَلٰی أَنَّہَا کَانَتْ نُہْبَۃً .فَذَکَرُوْا مَا
٦٢٦٨: سنان بن سلمہ نے حضرت سلمہ (رض) سے روایت کی کہ خیبر کے دن جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا گزر ایسی ہانڈیوں کے پاس سے ہوا جن میں گھریلو گدھوں کا گوشت تھا آپ نے ان کو الٹ دینے کا حکم دیا۔ اس میں ان پر حجت یہ ہے کہ حمرالناس میں دو احتمال ہیں : کہ انھوں نے لوگوں کے گدھے لوٹ لیے اس لیے لوگوں کی طرف نسبت کی۔ لوگوں کی طرف اس لیے نسبت کی گئی کہ وہ ان پر سوار ہوتے تھے تو آ جا کر ممانعت کا دارومدار اسی بات پر ہوا کہ وہ گھریلو گدھے تھے نہ کچھ ! اور اگر کوئی معترض کہے کہ ایک اور روایت وارد ہے جو آپ کی بات کی تردید کر کے ثابت کرتی ہے کہ وہ لوٹ کے گدھے تھے روایت ملاحظہ ہو۔