۶۲۸۳: حَدَّثَنَا أَبُوْبَکْرَۃَ قَالَ : ثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ حُمْرَانَ ، قَالَ : ثَنَا عُقْبَۃُ بْنُ التَّوْأَمِ الرَّقَاشِیُّ ، قَالَ : حَدَّثَنِیْ أَبُو کَثِیْرٍ الْیَمَامِیُّ ، قَالَ : دَخَلْتُ مِنَ الْیَمَامَۃِ اِلَی الْمَدِیْنَۃِ ، لَمَّا أَکْثَرَ النَّاسُ الْاِخْتِلَافَ فِی النَّبِیذِ ، لِأَلْقَی أَبَا ہُرَیْرَۃَ ، فَأَسْأَلَہٗ عَنْ ذٰلِکَ ، فَلَقِیْتہ فَقُلْتُ :یَا أَبَا ہُرَیْرَۃَ ، اِنِّیْ أَتَیْتُک مِنَ الْیَمَامَۃِ أَسْأَلُک عَنِ النَّبِیذِ ، فَحَدِّثْنِیْ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، لَا تُحَدِّثْنِیْ عَنْ غَیْرِہٖ۔ فَقَالَ : سَمِعْتُ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُوْلُ الْخَمْرُ مِنَ الْکَرْمَۃِ وَالنَّخْلَۃِ .قَالَ أَبُوْ جَعْفَرٍ : فَذَہَبَ قَوْمٌ اِلٰی أَنَّ الْخَمْرَ مِنْ التَّمْرِ وَالْعِنَبِ جَمِیْعًا ، وَاحْتَجُّوْا فِیْ ذٰلِکَ بِہٰذَا الْحَدِیْثِ .وَخَالَفَہُمْ فِیْ ذٰلِکَ آخَرُوْنَ فَقَالُوْا الْخَمْرُ الْمُحَرَّمَۃُ فِیْ کِتَابِ اللّٰہِ تَعَالٰی ، ہِیَ الْخَمْرُ الَّتِی مِنْ عَصِیرِ الْعِنَبِ اِذَا نَشَّ الْعَصِیرُ وَأَلْقَی بِالزَّبَدِ ، ہٰکَذَا کَانَ أَبُوْ حَنِیْفَۃَ رَحِمَہُ اللّٰہُ یَقُوْلُ .وَقَالَ أَبُوْ یُوْسُفَ رَحِمَہُ اللّٰہُ : اِذَا نَشَّ ، وَاِنْ لَمْ یَلْقَ بِالزَّبَدِ ، فَقَدْ صَارَ خَمْرًا .وَلَیْسَ الْحَدِیْثُ الَّذِیْ رَوَیْنَاہٗ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ، عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِیْ أَوَّلِ ہٰذَا الْبَابِ ، بِخِلَافِ ذٰلِکَ عِنْدَنَا ، لِأَنَّہٗ یَحْتَمِلُ أَنْ یَکُوْنَ أَرَادَ بِقَوْلِہٖ الْخَمْرُ مِنْ ہَاتَیْنِ الشَّجَرَتَیْنِ اِحْدَاہُمَا ، فَعَمَّہُمَا بِالْخِطَابِ وَأَرَادَ اِحْدَاہُمَا دُوْنَ الْأُخْرٰی کَمَا قَالَ اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ یَخْرُجُ مِنْہُمَا اللُّؤْلُؤُ وَالْمَرْجَانُ وَاِنَّمَا یَخْرُجُ مِنْ أَحَدِہِمَا .وَکَمَا قَالَ : یَا مَعْشَرَ الْجِنِّ وَالْاِنْسِ أَلَمْ یَأْتِکُمْ رُسُلٌ مِنْکُمْ وَالرُّسُلُ مِنَ الْاِنْسِ لَا مِنَ الْجِنِّ .وَکَمَا قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فِیْ حَدِیْثِ عُبَادَۃَ بْنِ الصَّامِتِ اِذْ أَخَذَ عَلٰی أَصْحَابِہٖ فِی الْبَیْعَۃِ کَمَا أَخَذَ عَلَی النِّسَائِ أَنْ لَا تُشْرِکُوْا ، وَلَا تَسْرِقُوْا ، وَلَا تَزْنُوْا .ثُمَّ قَالَ مَنْ أَصَابَ مِنْ ذٰلِکَ شَیْئًا فَعُوْقِبَ بِہٖ ، فَہُوَ کَفَّارَۃٌ لَہٗ .
٦٢٨٣: ابو کثیر یمامی کہتے ہیں کہ میں یمامہ سے مدینہ آیا جبکہ لوگوں کے درمیان نبیذ کے اختلاف نے زور پکڑا میں نے اپنے آپ کو کہا کہ میں ضرور ابوہریرہ (رض) سے ملاقات کروں گا اور اس کے متعلق ان سے سوال کروں گا۔ چنانچہ میں ان سے ملا اور میں نے کہا اے ابوہریرہ (رض) ! میں نبیذ کے متعلق پوچھنے کے لیے یمامہ سے حاضر ہوا ہوں میں نے کہا آپ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ارشاد میرے سامنے نقل کیجئے اور کوئی بات نقل مت کریں۔ تو وہ فرمانے لگے میں نے جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو فرماتے سنا کہ شراب انگور کی بیل اور کھجور سے بنتی ہے۔ امام طحاوی (رح) فرماتے ہیں : ایک جماعت کا خیال یہ ہے کہ شراب کھجور اور انگور دونوں سے ہوتی ہے انھوں نے اس روایت کو دلیل بنایا۔ وہ شراب جس کو کتاب اللہ میں حرام کہا گیا وہ انگور کا نچوڑ ہے جبکہ اسے جوش آئے اور وہ جھاگ پھینکے۔ امام ابوحنیفہ (رح) کا یہی قول ہے۔ قول ابو یوسف (رح) یہ ہے جب وہ جوش کرے اگرچہ وہ جھاگ پیدا نہ کرے وہ شراب بن جائے گی۔ شروع باب میں مذکورہ حضرت ابوہریرہ (رض) والی روایت وہ اس کے مخالف نہیں ہے۔ ” الخمر من ہاتین الشجرتین “ خطاب اگرچہ عام ہے مگر مراد ایک ہے جیسا کہ اس ارشاد الٰہی میں ” یخرج منہما اللؤلؤ والمرجان “ (الرحمن۔ ٢٢) ان میں سے ایک سے یہ مونگے موتی نکلتے ہیں جیسا کہ فرمایا ” یٰمعشرالجن والانس “ (الانعام ١٣٠) دونوں اجناس کا ذکر فرما کر مراد انسان لیے ہیں کیونکہ رسول تو صرف انسانوں سے آئے ہیں نہ کہ جنات سے۔ جس طرح کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جو کہ حضرت عبادہ بن صامت والی روایت میں مذکور ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے صحابہ سے بھی اسی طرح بیعت لی جس طرح صحابیات سے لی۔ ان لاتشرکو۔۔۔ کہ شرک نہ کرنا ‘ چوری نہ کرنا اور زنا نہ کرنا پھر فرمایا جو ان میں سے کسی چیز کا ارتکاب کر بیٹھا پھر اسے سزا مل گئی وہ اس کے لیے کفارہ ہے۔ (بخاری فی الایمان باب : ١١)
تخریج : بخاری فی الایمان باب ١١‘ والحدود باب ٨‘ مسلم فی الحدود روایت ٤١‘ ترمذی فی الحدود باب ١٢‘ دارمی فی الیسیر باب ١٦‘ مسن داحمد ٥؍٣١٤۔