۶۲۸۴: حَدَّثَنَا بِذٰلِکَ یُوْنُسُ ، قَالَ : ثَنَا سُفْیَانُ عَنِ الزُّہْرِیِّ ، عَنْ أَبِیْ اِدْرِیْسَ ، عَنْ عُبَادَۃَ بْنِ الصَّامِتِ ، عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ .وَقَدْ عَلِمْنَا مَنْ أَشْرَکَ ، فَعُوْقِبَ بِشِرْکِہِ فَلَیْسَ ذٰلِکَ بِکَفَّارَۃٍ .فَدَلَّ مَا ذَکَرْنَا أَنَّہٗ اِنَّمَا أَرَادَ ، مَا سِوَی الشِّرْکِ ، مِمَّا ذَکَرَ فِیْ ہٰذَا الْحَدِیْثِ .فَلَمَّا کَانَتْ ہٰذِہِ الْأَشْیَائُ ، قَدْ جَائَ تْ ظَاہِرُہَا عَلَی الْجَمْعِ ، وَبَاطِنُہَا عَلَی خَاص مِنْ ذٰلِکَ ، احْتَمَلَ أَیْضًا أَنْ یَکُوْنَ قَوْلُہٗ الْخَمْرُ مِنْ ہَاتَیْنِ الشَّجَرَتَیْنِ ، النَّخْلَۃِ ، وَالْعِنَبَۃِ ظَاہِرَ ذٰلِکَ عَلَیْہِمَا ، وَبَاطِنَہٗ عَلٰی أَحَدِہِمَا ، فَیَکُوْنُ الْخَمْرُ الْمَقْصُوْدُ فِیْ ذٰلِکَ مِنَ الْعِنَبَۃِ ، لَا مِنَ النَّخْلَۃِ .وَیَحْتَمِلُ أَیْضًا قَوْلُہٗ الْخَمْرُ مِنْ ہَاتَیْنِ الشَّجَرَتَیْنِ أَنْ یَکُوْنَ عَنَی بِہٖ الشَّجَرَتَیْنِ جَمِیْعًا وَیَکُوْنُ مَا خَمَرَ مِنْ ثَمَرِہِمَا خَمْرًا ، کَمَا ذَہَبَ اِلَیْہِ أَبُوْ حَنِیْفَۃَ ، وَأَبُوْ یُوْسُفَ وَمُحَمَّدٌ فِیْمَا یُنْقَعُ مِنْ الزَّبِیْبِ وَالتَّمْرِ ، فَجَعَلُوْھُ خَمْرًا .وَیَحْتَمِلُ قَوْلُہٗ الْخَمْرُ مِنْ ہَاتَیْنِ الشَّجَرَتَیْنِ أَنْ یَکُوْنَ أَرَادَ : الْخَمْرَ مِنْہُمَا ، وَاِنْ کَانَتْ مُخْتَلِفَۃً ، عَلٰی أَنَّہَا مِنْ الْعِنَبِ ، مَا قَدْ عَلِمْنَاہُ مِنَ الْخَمْرِ ، وَعَلٰی أَنَّہَا مِنْ التَّمْرِ ، مَا یُسْکِرُ ، فَیَکُوْنُ خَمْرُ الْعِنَبِ ہِیَ عَیْنُ الْعَصِیرِ ، اِذَا اشْتَدَّ وَخَمْرُ التَّمْرِ ، ہُوَ الْمِقْدَارُ مِنْ نَبِیذِ التَّمْرِ الَّذِیْ یُسْکِرُ .فَلَمَّا احْتَمَلَ ہٰذَا الْحَدِیْثُ ہٰذِہِ الْوُجُوْہَ الَّتِیْ ذٰکَرْنَا ، لَمْ یَکُنْ أَحَدُہَا بِأَوْلَی مِنْ بَقِیَّتِہَا ، وَلَمْ یَکُنْ لِمُتَأَوِّلٍ أَنْ یَتَأَوَّلَہٗ عَلٰی أَحَدِہَا اِلَّا کَانَ لِخَصْمِہِ أَنْ یَتَأَوَّلَہٗ عَلٰی ذٰلِکَ .فَاِنْ قَالَ قَائِلٌ : فَمَا مَعْنَیْ حَدِیْثِ عُمَرَ ؟
٦٢٨٤: ابو ادریس خولانی نے حضرت عبادہ بن صامت (رض) سے انھوں نے جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے روایت کی ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ جس آدمی نے شرک کیا پھر اس کو شرک کی سزا دے دی گئی یہ اس کے لیے کفارہ نہیں بنے گا جو کچھ ہم نے ذکر کیا وہ شرک کے علاوہ مراد ہے اس سے ثابت ہوتا ہے کہ اس سے مراد شرک کے علاوہ گناہ ہیں جن کا تذکرہ اس روایت میں آیا ہے جب ان اشیاء کو ظاہری طور پر اکٹھا ذکر کیا حالانکہ حقیقی طور پر ان میں بعض خاص ہیں تو اسی طرح روایت : ” الخمر من ہاتین الشجرتین النخلۃ والعنبۃ “ ظاہری طور پر دونوں مذکور ہیں اور حقیقی طور پر ایک مراد ہے پس مقصودی شراب انگور سے بنتی ہے۔ ممکن ہے کہ دونوں کے درخت بھی مراد ہوں اور جو ان دونوں کے پھلوں میں سے خمر بنائی جائے وہ خمر ہو جیسا کہ امام ابوحنیفہ (رح) کا یہ قول ہے کہ جو کھجور اور انگور میں سے نچوڑ کر بنائی جائے وہ خمر ہے۔ اس خمر والی روایت سے مراد یہ ہے کہ شراب دونوں سے ہے اگرچہ وہ مختلف ہے جیسا کہ انگور سے ہم جانتے ہی ہیں اور کھجور میں سے وہ جو نشہ پیدا کرے پس اس لحاظ سے انگور کی شراب تو بعینہٖ وہی نچوڑ ہے جبکہ وہ گاڑھا ہوجائے اور کھجور کی شراب نبیذ تمر کی ایسی مقدار جو نشہ آور ہوجائے جب اس روایت میں ان وجوہات کا احتمال ہوا تو پھر ایک احتمال دوسرے سے کسی طور پر بھی اولیٰ نہیں ہر ایک اس کو دلیل بنا سکتا ہے۔ اس حدیث عمر کا پھر کیا مطلب ہوگا (روایت یہ ہے)