۶۲۹ : حَدَّثَنَا ابْنُ مَرْزُوْقٍ قَالَ : ثَنَا أَبُوْ عَاصِمٍ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَطَائٍ قَالَ : قَالَتْ عَائِشَۃُ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا " اللّٰہُمَّ لَا تَشْفِ مَنِ اسْتَشْفٰی بِالْخَمْرِ " .قَالُوْا : فَلَمَّا ثَبَتَ بِھٰذِہِ الْآثَارِ أَنَّ الشِّفَائَ لَا یَکُوْنُ فِیْمَا حُرِّمَ عَلَی الْعِبَادِ، ثَبَتَ بِالْأَثَرِ الْأَوَّلِ الَّذِیْ جَعَلَ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بَوْلَ الْاِبِلِ فِیْہِ دَوَائً، أَنَّہٗ طَاہِرٌ غَیْرُ حَرَامٍ .وَقَدْ رُوِیَ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِیْ ذٰلِکَ أَیْضًا
٦٢٩: عطاء کہتے ہیں کہ حضرت عائشہ (رض) نے دعا کی : اللہم لا تشف من استشفٰی الخمر ۔ اے اللہ ! جو شراب سے شفاء حاصل کرلے اس کو شفاء نہ دے۔ جب ان آثار سے یہ ثابت ہوگیا کہ جو چیز بندوں پر حرام کی گئی اس میں شفا نہیں اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اونٹوں کے پیشاب کو دوائی کے لیے تجویز فرمایا جیسا کہ پہلی روایت میں وارد ہے ‘ پس ثابت ہوا کہ یہ طاہر ہے ‘ حرام نہیں اور جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس بارے میں اور بھی روایات مروی ہیں۔
تخریج : ابن ابی شیبہ ٥؍٣٨
حاصل آثار :
ان پانچوں آثار سے یہ بات ثابت ہو رہی ہے کہ حرام میں شفاء نہیں اور پہلے آثار میں ان کو اونٹوں کا پیشاب بطور دوا استعمال کرنے کا حکم فرمایا اس سے ثابت ہوا کہ وہ حرام بھی نہیں اور نجس بھی نہیں بلکہ طاہر ہے اور اس وجہ سے اس کو پینے کا حکم دیا۔