hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 630

.

الطحاوي

630
Al Tahawi
۶۳۰ : مَا حَدَّثَنَا الرَّبِیْعُ بْنُ سُلَیْمَانَ الْمُؤَذِّنُ قَالَ : ثَنَا أَسَدٌ قَالَ : ثَنَا ابْنُ لَہِیْعَۃَ قَالَ : ثَنَا ابْنُ ہُبَیْرَۃَ، عَنْ حَنَشِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : (إِنَّ فِیْ أَبْوَالِ الْاِبِلِ وَأَلْبَانِہَا شِفَائً لِذِرْبَۃِ بُطُوْنِہِمْ) .قَالُوْا : فَفِیْ ذٰلِکَ تَثْبِیْتُ مَا وَصَفْنَا أَیْضًا .وَخَالَفَہُمْ فِیْ ذٰلِکَ آخَرُوْنَ فَقَالُوْا : أَبْوَالُ الْاِبِلِ نَجِسَۃٌ، وَحُکْمُہَا حُکْمُ دِمَائِہَا لَا حُکْمُ أَلْبَانِہَا وَلُحُوْمِہَا .وَقَالُوْا : أَمَّا مَا رَوَیْتُمُوْہُ فِیْ حَدِیْثِ الْعُرَنِیِّیْنَ، فَذٰلِکَ إِنَّمَا کَانَ لِلضَّرُوْرَۃِ، فَلَیْسَ فِیْ ذٰلِکَ دَلِیْلٌ أَنَّہٗ مُبَاحٌ فِیْ غَیْرِ الضَّرُوْرَۃِ، لِأَنَّا قَدْ رَأَیْنَا أَشْیَائَ أُبِیْحَتْ فِی الضَّرُوْرَاتِ، وَلَمْ تُبَحْ فِیْ غَیْرِ الضَّرُوْرَاتِ، وَرُوِیَتْ فِیْہَا الْآثَارُ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ .
٦٣٠: حنش بن عبداللہ نے کہا کہ حضرت ابن عباس (رض) کہتے ہیں کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اونٹوں کے ابوال اور البان میں پیٹ کی خرابی کا علاج ہے۔ علماء فرماتے ہیں یہ حدیث اس بات کو ثابت کر رہی ہے جو ہم نے بیان کی مگر دوسرے علماء نے ان سے اختلاف کرتے ہوئے کہا کہ اونٹوں کا پیشاب پلید ہے اور ان کا حکم وہی ہے جو ان کے خون کا حکم ہے نہ کہ دودھ اور گوشت کا۔ رہی وہ حدیث عرنیین جو تم نے ذکر کی تو وہ ایک ضرورت تھی بلا ضرورت وہ اس کے مباح ہونے کی دلیل نہیں بن سکتی کیونکہ ہم بہت سی چیزیں ایسی پاتے ہیں جن کو ضرورت کے موقع پر مباح کیا گیا مگر بلا ضرورت مباح نہیں ہیں اور اس میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے روایات موجود ہیں۔
اللغات : الذربۃ ۔ بدہضمی معدہ کا مرض۔
تخریج : مسند احمد ١؍٢٩٣۔ المعجم الکبیر ١٢؍١٨٤۔
تمام روایات کا حاصل :
دو باتیں ہیں اونٹوں کا پیشاب پاک ہے۔ نمبر دو اس کو دوائی کے طور پر استعمال کرنا اسی طرح درست ہے جیسا عام چیزوں کو۔ اگر وہ پاک نہ ہو تو شراب کی طرح اس سے تداوی (علاج) بھی درست قرار نہ دیا جاتا۔
فریق ثانی کا مؤقف :
اونٹوں کے پیشاب نجس ہیں اور ان کا حکم ان کے خون جیسا ہے دودھ اور گوشت جیسا نہیں۔
جوابات :
روایت عرنیین میں اس کے استعمال کی اجازت ضرورۃً ہے اس میں بلاضرورت اس کے مباح ہونے کی کوئی دلیل نہیں کیونکہ بہت سی اشیاء ہیں جن کو ضرورۃً مباح کیا گیا مگر وہ بلاضرورت مباح نہیں اس کی نظیریں احادیث رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں بکثرت پائی جاتی ہیں ایک نظیر پیش کی جاتی ہے ملاحظہ کریں۔