۶۲۹۱: حَدَّثَنَا اِبْرَاھِیْمُ بْنُ مَرْزُوْقٍ ، قَالَ ثَنَا عَفَّانَ ، قَالَ : ثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ ، قَالَ : أَنَا ثَابِتٌ ، وَحُمَیْدٌ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : کُنْتُ أَسْقِی أَبَا طَلْحَۃَ ، وَسُہَیْلَ بْنَ بَیْضَائَ ، وَأَبَا عُبَیْدَۃَ بْنَ الْجَرَّاحِ ، وَأَبَا دُجَانَۃَ ، خَلِیْطَ الْبُسْرِ وَالتَّمْرِ ، حَتّٰی أَشْرَعَتْ فِیْہِمْ ، فَنَادَیْ رَجُلٌ أَلَا اِنَّ الْخَمْرَ قَدْ حُرِّمَتْ فَوَاللّٰہِ مَا انْتَظَرُوْا حَتّٰی یَعْلَمُوْا أَحَقًّا مَا قَالَ أَمْ بَاطِلًا ، فَقَالُوْا : أَکْفِئْ اِنَائَ ک یَا أَنَسُ ، فَکَفَأْتُہَا ، فَلَمْ یَرْجِعْ اِلٰی رُئُوْسِہِمْ حَتّٰی لَقُوْا اللّٰہَ عَزَّ وَجَلَّ ، وَکَانَ خَمْرُہُمْ یَوْمئِذٍ ، الْبُسْرَ وَالتَّمْرَ .
٦٢٩١: حمید نے حضرت انس (رض) سے روایت کی کہ میں حضرت ابو طلحہ سہیل بن بیضاء ابو عبیدہ بن جراح اور ابو دجانہ (رض) کو کچی ‘ پکی کھجور کا نبیذ پلا رہا تھا یہاں تک کہ اس نے ان میں اپنا اثر شروع کیا۔ اسی وقت ایک منادی نے ندا دی سنو ! بیشک شراب حرام کردی گئی۔ اللہ کی قسم انھوں نے یہ معلوم کرنے کے لیے بھی انتظار نہ کیا کہ آیا یہ سچی بات ہے یا جھوٹی سب نے کہا اے انس اپنا برتن الٹ دو پھر وہ نشہ ان کے سروں کی طرف نہیں لوٹا یہاں تک کہ وہ اللہ سے جا ملے ان دنوں شراب کچی اور پکی کھجوروں کی ہوتی تھی۔