۶۲۹۲: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ خُشَیْشٍ قَالَ : ثَنَا مُسْلِمُ بْنُ اِبْرَاھِیْمَ ، قَالَ : ثَنَا ہِشَامٌ ، عَنْ قَتَادَۃَ ، عَنْ أَنَسٍ قَالَ : اِنِّیْ لَأَسْقِی أَبَا طَلْحَۃَ ، وَأَبَا دُجَانَۃَ ، وَسُہَیْلَ بْنَ بَیْضَائَ ، خَلِیْطَ بُسْرٍ وَتَمْرٍ ، اِذْ حُرِّمَتِ الْخَمْرُ ، فَأَرَقْتُہَا وَأَنَا سَاقِیْھِمْ یَوْمئِذٍ وَأَصْغَرُہُمْ ، وَاِنَّا نَعُدُّہَا یَوْمئِذٍ خَمْرًا .قَالُوْا : ہٰذَا مَا یَدُلُّ عَلٰی أَنَّ ذٰلِکَ کَانَ خَمْرًا أَیْضًا .قِیْلَ لَہُمْ : لَیْسَ فِیْ ذٰلِکَ دَلِیْلٌ عَلٰی مَا ذَکَرْت ، لِأَنَّہٗ قَدْ یَجُوْزُ أَنْ یَکُوْنَ الشَّرَابُ نَقِیْعَ تَمْرٍ مُخَمَّرٍ ، فَثَبَتَ بِذٰلِکَ قَوْلُ مَنْ کَرِہَ نَقِیْعَ التَّمْرِ ، وَلَا یَجِبُ بِذٰلِکَ حُجَّۃُ حُرْمَۃِ طَبِیخِہٖ۔ وَیَحْتَمِلُ أَنْ یَکُوْنُوْا فَعَلُوْا ذٰلِکَ ، لِعِلْمِہِمْ أَنَّ کَثِیْرَ ذٰلِکَ مُسْکِرٌ ، فَلَمْ یَأْمَنُوْا عَلٰی أَنْفُسِہِمُ الْوُقُوْعَ فِیْہٖ، لِقُرْبِ عَہْدِہِمْ بِہٖ ، فَکَسَّرُوْھُ لِذٰلِکَ .وَأَمَّا قَوْلُ أَنَسٍ وَاِنَّہَا لَخَمْرُنَا یَوْمئِذٍ فَیَحْتَمِلُ أَنْ یَکُوْنَ أَرَادَ ذٰلِکَ : مَا کُنَّا نُخَمِّرُ .وَالدَّلِیْلُ عَلٰی ذٰلِکَ۔
٦٢٩٢: قتادہ نے حضرت انس (رض) سے روایت کی کہ میں حضرت ابو طلحہ ‘ ابو دجانہ ‘ سہیل بن بیضاء کو کچی ‘ پکی کھجور کا نبیذ پلا رہا تھا جبکہ شراب کے حرام ہونے کا اعلان ہوا میں ان میں سے سب سے چھوٹا اور ان کا ساتھی تھا میں نے وہ ساری شراب بہا دی ہم ان دنوں اسی کو شراب شمار کرتے تھے۔ یہ روایات دلالت کرتی ہیں کہ کچی پکی کھجور کا نبیذ بھی شراب تھی۔ ان کو جواب میں کہے کہ ان روایات میں تو کوئی دلیل نہیں جو تمہاری اس بات کو ثابت کرے کیونکہ یہ عین ممکن ہے کہ وہ شراب کھجور سے بنائی شراب کا نچوڑ ہو۔ اس سے تو ان لوگوں کا قول ثابت ہوگیا جو کھجور کے نچوڑ کو ناپسند کرتے ہیں اس سے پکے ہوئے نبیذ کی حرمت تو نہ ثابت ہوسکی اور اس میں یہ بھی احتمال ہے کہ انھوں نے یہ اس لیے کیا ہو کہ وہ جانتے تھے کہ اس کی زیادہ مقدار نشہ لانے والی ہے اور ان کو شراب کا زمانہ قریب ہونے کی وجہ سے اس میں دوبارہ مبتلا ہونے کا خطرہ ہو اسی کے پیش نظر انھوں نے اس کے برتن بھی توڑ ڈالے۔ باقی حضرت انس (رض) کا قول ” انہ لخمرنا یومئذ “ اس کا مطلب یہ ہوسکتا ہے کہ ان کی مراد یہ ہو کہ ہم اس کو خمر بنا لیتے تھے اور اس احتمال کی دلیل یہ روایت ہے۔