۶۲۹۳: مَا حَدَّثَنَا فَہْدٌ ، قَالَ : ثَنَا أَحْمَدُ بْنُ یُوْنُسَ قَالَ : ثَنَا ابْنُ شِہَابٍ ، عَنْ أَبِیْ لَیْلَی ، عَنْ عِیْسَی، أَنَّ أَبَاہُ بَعَثَہُ اِلٰی أَنَسٍ فِیْ حَاجَۃٍ ، فَأَبْصَرَ عِنْدَہُ طِلَائً شَدِیدًا ، وَالطِّلَائُ : مَا یُسْکِرُ کَثِیْرُہٗ، فَلَمْ یَکُنْ ذٰلِکَ عِنْدَ أَنَسٍ خَمْرًا ، وَاِنَّ کَثِیْرَہُ یُسْکِرُ .وَثَبَتَ بِمَا وَصَفْنَا أَنَّ الْخَمْرَ عِنْدَ أَنَسٍ ، لَمْ یَکُنْ مِنْ کُلِّ شَرَابٍ وَلٰـکِنَّہَا مِنْ خَاص مِنَ الْأَشْرِبَۃِ .وَقَدْ وَجَدْنَا مِنَ الْآثَارِ ، مَا یَدُلُّ عَلٰی مَا ذَکَرْنَا أَیْضًا ، مِمَّا تَأَوَّلْنَا عَلَیْہِ أَحَادِیْثَ أَنَسٍ .
٦٢٩٣: ابو لیلیٰ نے عیسیٰ سے روایت کی ہے کہ میرے والد نے مجھے حضرت انس (رض) کے پاس ایک کام کے لیے بھیجا۔ میں نے وہاں سخت قسم کا طلاء دیکھا۔ طلاء وہ ہے جس کا زیادہ پینا نشہ لائے۔ حضرت انس (رض) کے ہاں یہ خمر میں شمار نہیں ہوتا تھا حالانکہ اس کا زیادہ پینا نشہ آور تھا۔ اس بات سے یہ ثابت ہوگیا کہ حضرت انس (رض) کے ہاں ہر شراب خمر نہیں بلکہ وہ خاص مشروبات سے حاصل ہوتی ہے ہمیں اور بھی آثار ایسے ملتے ہیں جو اس بات پر دلالت کرتے ہیں جو ہم نے حضرت انس (رض) کی روایات کی تاویلات میں پیش کئے ہیں۔