۶۳۲۰: حَدَّثَنَا حُسَیْنُ بْنُ نَصْرٍ قَالَ : ثَنَا عَبْدُ الرَّحْمٰنِ بْنُ زِیَادٍ ، قَالَ : ثَنَا شُعْبَۃُ ، عَنْ سَعِیْدٍ عَنْ أَبِیْ بُرْدَۃَ قَالَ : سَمِعْتُ أَبِیْ یُحَدِّثُ عَنْ أَبِیْ مُوْسَی أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لَمَّا بَعَثَ أَبَا مُوْسَی وَمُعَاذًا اِلَی الْیَمَنِ ، قَالَ أَبُوْ مُوْسٰی اِنَّ شَرَابًا یُصْنَعُ فِیْ أَرْضِنَا مِنَ الْعَسَلِ ، یُقَالُ لَہُ الْبِتْعُ ، وَمِنِ الشَّعِیْرِ یُقَالُ لَہُ الْمِزْرُ .فَقَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کُلُّ مُسْکِرٍ حَرَامٌ .قَالَ أَبُوْ جَعْفَرٍ : فَذَہَبَ قَوْمٌ اِلٰی أَنْ حَرَّمُوْا قَلِیْلَ النَّبِیذِ وَکَثِیْرَہٗ، وَاحْتَجُّوْا فِیْ ذٰلِکَ بِہٰذِہِ الْآثَارِ.وَخَالَفَہُمْ فِیْ ذٰلِکَ آخَرُوْنَ ، فَأَبَاحُوْا مِنْ ذٰلِکَ مَا لَا یُسْکِرُ ، وَحَرَّمُوْا الْکَثِیْرَ الَّذِیْ یُسْکِرُ.وَکَانَ مِنَ الْحُجَّۃِ لَہُمْ فِیْ ذٰلِکَ أَنَّ ہٰذِہِ الْآثَارَ الَّتِیْ ذٰکَرْنَا ، قَدْ رُوِیَتْ عَنْ جَمَاعَۃٍ مِنْ أَصْحَابِ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ .وَلٰـکِنَّ تَأْوِیْلَہَا یَحْتَمِلُ أَنْ یَکُوْنَ کَمَا ذَہَبَ اِلَیْہِ مَنْ حَرَّمَ قَلِیْلَ النَّبِیذِ وَکَثِیْرَہٗ، وَیَحْتَمِلُ أَنْ یَکُوْنَ عَلَی الْمَدَارِ الَّذِیْ یَسْکَرُ مِنْہُ شَارِبُہُ خَاصَّۃً .فَلَمَّا احْتَمَلَتْ ہٰذِہِ الْآثَارُ کُلَّ وَاحِدٍ مِنْ ہٰذَیْنِ التَّأْوِیْلَیْنِ ، نَظَرْنَا فِیْمَا سِوَاہُمَا ، لِیُعْلَمَ بِہٖ أَیُّ الْمَعْنَیَیْنِ أُرِیْدَ بِمَا ذَکَرْنَا فِیْہَا .فَوَجَدْنَا عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ، وَہُوَ أَحَدُ النَّفَرِ الَّذِیْنَ ، رَوَیْنَا عَنْہُمْ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَنَّہٗ قَالَ کُلُّ مُسْکِرٍ حَرَامٌ .قَدْ رُوِیَ عَنْہُ فِیْ اِبَاحَۃِ الْقَلِیْلِ مِنَ النَّبِیذِ الشَّدِیدِ ،
٦٣٢٠: ابو بردہ کہتے ہیں کہ میں نے اپنے والد کو حضرت ابو موسیٰ (رض) سے یہ روایت بیان کرتے سنا کہ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت ابو موسیٰ اور معاذ (رض) کو یمن کی طرف بھیجا تو ابو موسیٰ نے عرض کی ہمارے علاقے میں شہد سے ایک مشروب بنتا ہے جس کو بیع کہتے ہیں اور جوَ سے ایک مشروب بنتا ہے جس کو مزر کہتے ہیں تو جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ہر نشے والی چیز حرام ہے۔ امام طحاوی (رح) کہتے ہیں : کہ ایک جماعت اس طرف گئی کہ نبیذ کی تھوڑی اور زیادہ مقدار حرام ہے اور انھوں نے ان آثار کو دلیل بنایا۔ دوسروں نے کہا نبیذ کی وہ مقدارجو نشہ نہ پیدا کرے وہ مباح ہے اور وہ زیادہ مقدار جو نشہ پیدا کرے وہ حرام ہے ان کی دلیل یہ ہے کہ یہ آثار جن کا تذکرہ ہوا صحابہ کی ایک جماعت نے روایت کئے ہیں اور ان کی تاویل عین ممکن ہے کہ اس طرح بھی ہو جس طرف فریق اول گیا ہے کہ نبیذ کی قلیل و کثیر مقدار حرام ہے مگر اس میں دوسرا احتمال یہ ہے کہ اس سے وہ مقدار مراد ہو جس سے پینے والے کو نشہ آجائے جب ان روایات میں یہ دونوں احتمال ہیں تو اب ہم اور روایات کو دیکھتے ہیں تاکہ معنی مراد معلوم ہو سکے چنانچہ ہم نے دیکھا حضرت عمر (رض) جنہوں نے جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ” کل مسکر حرام “ نقل کیا ہے انہی سے سخت قسم کی نبیذ کی قلیل مقدار کا مباح ہونا ثابت ہوتا ہے روایت یہ ہے۔
تخریج : بخاری فی الاحکام باب ٢٢۔