۶۳۳۰: حَدَّثَنَا أَبُو أُمَیَّۃَ قَالَ ثَنَا أَبُو نُعَیْمٍ ، قَالَ : ثَنَا عَبْدُ السَّلَامِ ، عَنْ لَیْثٍ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ أَخِی الْقَعْقَاعِ بْنِ شَوْرٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ شَہِدْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أُتِیَ بِشَرَابٍ ، فَأَدْنَاہُ اِلَی فِیْہٖ، فَقَطَّبَ فَرَدَّہٗ، فَقَالَ رَجُلٌ : یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ، أَحَرَامٌ ہُوَ ؟ فَرَدَّ الشَّرَابَ ، ثُمَّ عَادَ بِمَائٍ فَصَبَّہُ عَلَیْہٖ، ذَکَرَ مَرَّتَیْنِ أَوْ ثَلَاثًا ، ثُمَّ قَالَ اِذَا اغْتَلَمَتْ ہٰذِہِ الْأَسْقِیَۃُ ، عَلَیْکُمْ ، فَاکْسِرُوْا مُتُوْنَہَا بِالْمَائِ .
٦٣٣٠: عبدالملک جو کہ قعقاع بن شور کے بھتیجے ہیں انھوں نے ابن عمر (رض) سے نقل کیا کہ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس موجود تھا آپ کے پاس ایک مشروب لایا گیا آپ نے اس کو اپنے منہ کے قریب کیا پھر ترش روئی اختیار کر کے اس کو واپس کردیا ایک آدمی نے کہا کہ یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کیا یہ حرام ہے کہ آپ نے مشروب کو واپس کردیا پھر پانی منگوایا اور وہ اس میں ڈالا اور دو یا تین مرتبہ ذکر کیا پھر فرمایا جب یہ مشکیزے تیز ہوجائیں تو تم پر لازم ہے کہ ان کی تیزی پانی سے توڑ دیا کرو۔
تخریج : نسائی فی الاشربہ باب ٤٨۔